معیارالمذاہب — Page 489
روحانی خزائن جلد ۹ ۴۸۷ معیار المذاہب اس کشش سے ایک ذرہ بھی خالی نہیں اور یہ ایک بڑی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ ہر یک چیز کا خالق ہے کیونکہ نور قلب اس بات کو مانتا ہے کہ وہ کشش جو اس کی طرف جھکنے کے لئے تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے وہ بلا شبہ اسی کی طرف سے ہے جیسا کہ قرآن شریف نے اس آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ إِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمدِه یعنی هر یک چیز اس کی پاکی اور اس کے محامد بیان کر رہی ہے۔ اگر خدا ان چیزوں کا خالق نہیں تھا تو ان چیزوں میں خدا کی طرف کشش کیوں پائی جاتی ہے۔ ایک غور کرنے والا انسان ضرور اس بات کو قبول کر لے ۳۱ ) گا کہ کسی مخفی تعلق کی وجہ سے یہ کشش ہے پس اگر وہ تعلق خدا کا خالق ہونا نہیں تو کوئی آریہ وغیرہ اس بات کا جواب دیں کہ اس تعلق کی وید وغیرہ میں کیا ماہیت لکھی ہے اور اس کا کیا نام ہے۔ کیا یہی سچ ہے کہ خدا صرف زبر دستی هر یک چیز پر حکومت ہر کر رہا ہے اور ان چیزوں میں کوئی طبعی قوت اور شوق خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے کا نہیں ہے ۔ معاذ اللہ ہرگز ایسا نہیں بلکہ ایسا خیال کرنا نہ صرف حماقت بلکہ پر لے درجہ کی خباثت بھی ہے مگر افسوس کہ آریوں کے وید نے خدا تعالیٰ کی خالقیت سے انکار کر کے اس روحانی تعلق کو قبول نہیں کیا جس پر طبعی اطاعت ہر یک چیز کی موقوف ہے اور چونکہ دقیق معرفت اور دقیق گیان سے وہ ہزاروں کوس دور تھے ۔ لہذا یہ سچا فلسفہ ان سے پوشیدہ رہا ہے کہ ضرور تمام اجسام اور ارواح کو ایک فطرتی تعلق اس ذات قدیم سے پڑا ہوا ہے اور خدا کی حکومت صرف بناوٹ اور زبر دستی کی حکومت نہیں بلکہ ہر یک چیز اپنی روح سے اس کو سجدہ کر رہی ہے کیونکہ ذرہ ذرہ اس کے بے انتہا احسانوں میں مستغرق اور اس کے ہاتھ سے نکلا ہوا ہے مگر ا بنی اسرائیل: ۴۵