معیارالمذاہب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 487 of 581

معیارالمذاہب — Page 487

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۸۵ معیار المذاہب گذشتہ بزرگوں کی مذمت نہیں کرتا لیکن اس نے پاک نبیوں کو رہزنوں اور بیماروں کے نام سے موسوم کیا ہے اس کی زبان پر دوسروں کے لئے ہر وقت بے ایمان حرام کا ر کا لفظ چڑھا ہوا ہے کسی کی نسبت ادب کا لفظ استعمال نہیں کیا کیوں نہ ہو خدا کا فرزند جو ہوا ۔ اور پھر جب دیکھتے ہیں کہ یسوع کے کفارہ نے حواریوں کے دلوں پر کیا اثر کیا۔ کیا وہ اس پر ایمان لا کر گناہ سے باز آ گئے تو اس جگہ بھی سچی پاکیزگی کا خانہ خالی ہی معلوم ہوتا ہے ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ وہ لوگ سولی ملنے کی خبر کو سن کر ایمان لا چکے تھے لیکن پھر بھی نتیجہ یہ ہوا کہ یسوع کی گرفتاری پر پطرس نے سامنے کھڑے ہو کر اس پر لعنت بھیجی باقی سب بھاگ گئے اور کسی کے دل میں اعتقاد کا نور باقی نہ رہا۔ پھر بعد اس کے گناہ سے رکنے کا اب تک یہ حال ہے کہ خاص یورپ کے محققین کے اقراروں سے یہ بات ثابت ہے کہ یورپ میں حرام کاری کا اس قدر زور ہے کہ خاص لنڈن میں ہر سال ہزاروں حرامی بچے پیدا ہوتے ہیں اور اس قدر گندے واقعات یورپ کے شائع ہوئے ہیں کہ کہنے اور سننے کے لائق نہیں ۔ شراب خواری کا اس قدر زور ہے کہ اگر ان دوکانوں کو ایک خط مستقیم (۲۰) میں با ہم رکھ دیا جاوے تو شاید ایک مسافر کی دو منزل طے کرنے تک بھی وہ دوکانیں ختم نہ ہوں ۔ عبادات سے فراغت ہے ۔ اور دن رات سوا عیاشی اور دنیا پرستی کے کام نہیں پس اس تمام تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یسوع کے مصلوب ہونے سے اس پر ایمان لانے والے گناہ سے رک نہیں سکے بلکہ جیسا کہ بند ٹوٹنے نوٹ: یسوع کا مصلوب ہونا اگر اپنی مرضی سے ہوتا تو خود کشی اور حرام کی موت تھی اور خلاف مرضی کی حالت میں کفارہ نہیں ہوسکتا اور یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے