معیارالمذاہب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 479 of 581

معیارالمذاہب — Page 479

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۷۷ معیار المذاہب کو گناہ کرنے کی ترغیب دی ہو۔ بلکہ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ اس طرح کا فتوی وہی لوگ دیتے ہیں جو درحقیقت ایمان اور نیک چلنی سے محروم رہ کر اپنے اغراض نفسانی کی وجہ سے دوسروں کو بھی بدکاریوں کے جنم میں ڈالنا چاہتے تھے ۔ اور یہ لوگ در حقیقت ان نجومیوں کے مشابہ ہیں جو ایک شارع عام میں بیٹھ کر راہ چلتے لوگوں کو (۱۴) پھسلاتے اور فریب دیتے ہیں اور ایک ایک پیسہ لے کر بے چارے حمقاء کو بڑے تسلی بخش الفاظ میں خوشخبری دیتے ہیں کہ عنقریب ان کی ایسی ایسی نیک قسمت کھلنے والی ہے اور ایک بچے محقق کی صورت بنا کر ان کے ہاتھ کے نقوش اور چہرہ کے خط و خال کو بہت توجہ سے دیکھتے بھالتے ہیں گویا وہ بعض نشانوں کا پتہ لگا رہے ہیں اور پھر ایک نمائشی کتاب کے ورقوں کو جو صرف اسی فریب دہی کے لئے آگے دھری ہوتی ہے الٹ پلٹ کر یقین دلاتے ہیں کہ در حقیقت پوچھنے والے کا ایک بڑا ہی ستارہ قسمت چمکنے والا ہے غالباً کسی ملک کا بادشاہ ہو جائے گا ور نہ وزارت تو کہیں نہیں گئی ۔ اور یا یہ لوگ جو کسی کو با وجود اس کی دائمی ناپاکیوں کے خدا کا مور دفضل بنانا چاہتے ہیں ان کیمیا گروں کی مانند ہیں جو ایک سادہ لوح مگر دولت مند کو دیکھ کر طرح طرح کی لاف زنیوں سے شکار کرنا چاہتے ہیں اور ادھر اُدھر کی باتیں کرتے کرتے پہلے آنے والے کیمیا گروں کی مذمت کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ جھوٹے بدذات نا حق اچکوں کے طور پر لوگوں کا مال قریب سے کھسکا کر لے جاتے ہیں اور پھر آخر بات کو کشاں کشاں اس حد تک پہنچاتے ہیں کہ صاحبو میں نے اپنے پچاس یا ساتھ برس کی عمر میں جس کو کیمیا گری کا مدعی دیکھا جھوٹا ہی پایا ۔ ہاں میرے گورو بیکنٹھ باشی سچے رسائی تھے کروڑہا روپیہ کا دان کر گئے مجھے خوش نصیبی