معیارالمذاہب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 466 of 581

معیارالمذاہب — Page 466

روحانی خزائن جلد ؟ ۴۶۴ معیار المذاہب کی طرف توجہ دلا وے ۔ ہماری دعا جیسا کہ اس گورنمنٹ کی دنیوی بھلائی کے لئے ہے ایسا ہی آخرت کے لئے بھی ہے پس کیا تعجب ہے کہ دعا کا اثر ہم دیکھ لیں ۔ اس زمانہ میں جبکہ حق اور باطل کے معلوم کرنے کے لئے بہت سے وسائل پیدا ہو گئے ہیں ہمارے ملک میں تین بڑے مذہب بالمقابل کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں ان مذا ہب ثلاثہ میں سے ہر یک صاحب مذہب کو دعویٰ ہے کہ میرا ہی مذہب حق اور درست ہے اور تعجب کہ کسی کی زبان بھی اس بات کے انکار کی طرف مائل نہیں ہوتی کہ اس کا مذہب سچائی کے اصولوں پر مبنی نہیں لیکن میں اس امر کو باور نہیں کر سکتا کہ جیسا کہ ہمارے مخالفوں کی زبانوں کا دعویٰ ہے ۔ ایسا ہی ایک سیکنڈ کے لئے ان کے دل بھی ان کی زبانوں سے اتفاق کر سکتے ہیں۔ بچے مذہب کی یہ ایک بڑی نشانی ہے کہ قبل اس کے جو ہم اس کی سچائی کے دلائل بیان کریں خود وہ اپنی ذات میں ہی ایسا روشن اور درخشان ہوتا ہے کہ اگر دوسرے مذاہب اس کے مقابل پر رکھے جائیں تو وہ سب تاریکی میں پڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور اس دلیل کو اس وقت ایک دانشمند انسان صفائی سے سمجھ سکتا ہے جبکہ ہر یک مذہب کو اس کے دلائل مخترعہ سے علیحدہ کر کے صرف اس کے اصل الاصول پر نظر کرے یعنی ان مذاہب کے طریق خدا شناسی کو فقط ایک دوسرے کے مقابل پر رکھ کر جانچے اور کسی مذہب کے عقیدہ خدا شناسی پر بیرونی دلائل کا حاشیہ نہ چڑھاوے بلکہ مجرد عن الدلائل کر کے اور ایک مذہب کو دوسرے مذہب کے مقابل پر رکھ کر پر کھے اور سوچے کہ کس مذہب میں ذاتی سچائی کی چمک پائی