مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 56

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۶ مسیح ہندوستان میں ۵۴ ٹھہر سکتی تھی اور نہ وہ اس چھوٹی سی عمر میں یعنی تینتیس برس میں سیاحت کر سکتے تھے ۔ اور یہ روایتیں نہ صرف حدیث کی معتبر اور قدیم کتابوں میں لکھی ہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے فرقوں میں اس تواتر سے مشہور ہیں کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں۔ کنز العمال جو احادیث کی ایک جامع کتاب ہے اس کے صفحہ م س میں ابو ہریرہ سے یہ حدیث لکھی ہے۔ اوحی اللہ تعالی الی عیسی ان یاعیسی انتقل من مكان الى مكان لئلا تعرف فتؤذى يعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ اے عیسی ایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف نقل کرتا رہ یعنی ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف جاتا کہ کوئی تجھے پہچان کر دکھ نہ دے۔ اور پھر اسی کتاب میں جابر سے روایت کر کے یہ حدیث لکھی ہے۔ کان عیسی ابن مريم يسيح فاذا امسى اكل بقل الصحراء ويشرب الماء القراح یعنی حضرت عیسی علیہ السلام ہمیشہ سیاحت کیا کرتے تھے اور ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف سیر کرتے تھے اور جہاں شام پڑتی تھی تو جنگل کے بقولات میں سے کچھ کھاتے تھے اور خالص پانی پیتے تھے۔ اور پھر اسی کتاب میں عبداللہ بن عمر سے روایت ہے جس کے یہ لفظ ہیں۔ قال احب شيء الى الله الغرباء قيل اى شيء الغرباء، قال الذين يفرون بدينهم و يجتمعون الى عيسى ابن مريم - یعنی فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پیارے خدا کی جناب میں وہ لوگ ہیں جو غریب ہیں۔ پوچھا گیا کہ غریب کے کیا معنی ہیں کہا وہ لوگ ہیں جو عیسی مسیح کی طرح دین لے کر اپنے ملک سے بھاگتے ہیں۔ تیسرا باب ان شہادتوں کے بیان میں جو طبابت کی کتابوں میں سے لی گئی ہیں کچھ ایک اعلیٰ درجہ کی شہادت جو حضرت مسیح کے صلیب سے بچنے پر ہم کوملی ہے اور جو ایسی شہادت جلد دوم جلد دوم صفحہ اے جلد چھ صفحه ۲۵ كنز العمال الباب الاوّل فى الاخلاق فصل خوف العاقبة كنز العمال الباب الاوّل فى الاخلاق فصل الصبر على انواع البلايا کنز العمال كتاب الفتن۔ فصل في الوصية في الفتن سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” شرب “ ہونا چاہیے۔(ناشر)