مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 51

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۱ مسیح ہندوستان میں یا کسی حدیث کو اپنے لئے حجت نہیں سمجھ سکتے لیکن ہم نے محض اس غرض سے ان کو لکھا ہے کہ تا عیسائیوں کو قرآن شریف اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ معلوم ہوا اور ان پر یہ حقیقت کھلے کہ کیونکر وہ سچائیاں جو صد ہا برس کے بعد اب معلوم ہوئی ہیں وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم نے پہلے سے بیان کر دی ہیں ۔ چنانچہ اُن میں سے کسی قدر ذیل میں لکھتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے ۔ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ - الآية وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينا الآية یعنی یہودیوں نے نہ حضرت مسیح کو در حقیقت قتل کیا اور نہ بذریعہ صلیب ہلاک کیا بلکہ ان کو محض ایک شبہ پیدا ہوا کہ گویا حضرت عیسی صلیب پر فوت ہو گئے ہیں اور ان کے پاس وہ دلائل نہیں ہیں جن کی وجہ سے ان کے دل اس بات پر مطمئن ہو سکیں کہ یقیناً حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیب پر جان نکل گئی تھی ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اگر چہ یہ سچ ہے کہ بظاہر مسیح صلیب پر کھینچا گیا اور اس کے مارنے کا ارادہ کیا گیا مگر یہ محض ایک دھوکا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے ایسا خیال کر لیا کہ در حقیقت حضرت مسیح علیہ السلام کی جان صلیب پر نکل گئی تھی بلکہ خدا نے ایسے اسباب پیدا کر دیئے جن کی وجہ سے وہ صلیبی موت سے بیچ رہا۔ اب انصاف کرنے کا مقام ہے کہ جو کچھ قرآن کریم نے یہود اور نصاری کے برخلاف فرمایا تھا آخر کار وہی بات سچی نکلی۔ اور اس زمانہ کی اعلیٰ درجہ کی تحقیقات سے یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح در حقیقت صلیبی موت سے بچائے گئے تھے ۔ کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ یہودی اس بات کا جواب دینے سے قاصر رہے کہ کیونکر حضرت مسیح علیہ السلام کی جان بغیر ہڈیاں توڑنے کے صرف دو تین گھنٹہ میں نکل گئی۔ اسی وجہ سے بعض یہودیوں نے ایک اور بات بنائی ہے کہ ا النساء : ۱۵۸