مسیح ہندوستان میں — Page 50
روحانی خزائن جلد ۱۵ مسیح ہندوستان میں ہرگز سچ نہیں کہ اس نے کوئی نیا جلالی جسم پایا۔ وہی جسم تھا اور وہی زخم تھے اور وہی خوف دل میں تھا کہ مبادا بد بخت یہودی پھر پکڑ لیں۔ متی باب ۲۸ آیت ۷ و ۸ و ۹ و ۱۰ کو غور سے پڑھو۔ ان آیات میں صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ وہ عورتیں جن کو کسی نے یہ پتہ دیا تھا کہ مسیح جیتا ہے اور جلیل کی طرف جارہا ہے اور کہنے والے نے چپکے سے یہ بھی کہا تھا کہ شاگردوں کو جا کر یہ خبر کر دو ۔ وہ اس بات کوسن کر خوش تو ہوئیں مگر بڑی خوفناک حالت میں روانہ ہوئیں یعنی یہ اندیشہ تھا کہ اب بھی کوئی شریر یہودی مسیح کو پکڑ نہ لے۔ اور آیت 9 میں ہے کہ جب وہ عورتیں شاگردوں کو خبر دینے جاتی تھیں تو یسوع انہیں ملا اور کہا سلام ۔ اور آیت دس میں ہے کہ یسوع نے انہیں کہا مت ڈرو یعنی میرے پکڑے جانے کا اندیشہ نہ کرو پر میرے بھائیوں کو کہو کہ جلیل کو جائیں ۔ وہاں مجھے دیکھیں گے۔ یعنی یہاں میں ٹھہر نہیں سکتا کہ دشمنوں کا اندیشہ ہے۔ غرض اگر فی الحقیقت مسیح مرنے کے بعد جلالی جسم کے ساتھ زندہ ہوا تھا تو یہ بار ثبوت اس پر تھا کہ وہ ایسی زندگی کا یہودیوں کو ثبوت دیتا۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ وہ اس بار ثبوت سے سبکدوش نہیں ہوا۔ یہ ایک بدیہی بیہودگی ہے کہ ہم یہودیوں پر الزام لگا دیں کہ انہوں نے مسیح کے دوبارہ زندہ ہونے کے ثبوت کو روک دیا بلکہ مسیح نے خود اپنے دوبارہ زندہ ہونے کا ایک ذرہ ثبوت نہیں دیا بلکہ بھاگنے اور چھپنے اور کھانے اور سونے اور زخم دکھلانے سے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ صلیب پر نہیں مرا۔ باب دوم ان شہادتوں کے بیان میں جو حضرت مسیح کے بچ جانے کی نسبت قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے ہم کوملی ہیں کہ یہ دلائل جواب ہم اس باب میں لکھنے لگے ہیں بظاہر ان کی نسبت ہر ایک کو خیال پیدا ہو گا کہ عیسائیوں کے مقابل پر ان وجوہات کو پیش کرنا بے فائدہ ہے کیونکہ وہ لوگ قرآن شریف نوٹ: اس جگہ مسیح نے عورتوں کو ان الفاظ سے تسلی نہیں دی کہ اب میں نئے اور جلالی جسم کے ساتھ اٹھا ہوں اب میرے پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا بلکہ عورتوں کو کمزور دیکھ کر معمولی تسلی دی جو ہمیشہ مرد عورتوں کو دیا کرتے ہیں۔ غرض جلالی جسم کا کوئی ثبوت نہ دیا بلکہ اپنا گوشت اور ہڈیاں دکھلا کر معمولی جسم کا ثبوت دے دیا۔ منہ