مسیح ہندوستان میں — Page 47
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۷ مسیح ہندوستان میں یہ عادت معلوم ہوتی ہے کہ وہ بات کا بتونگڑا بنا لیتے ہیں اور ایک ذرہ سی بات پر حاشیے چڑھاتے (۲۵) چڑھاتے ایک پہاڑ اس کو کر دیتے ہیں۔ مثلاً کسی انجیل نویس کے منہ سے نکل گیا کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے۔ اب دوسرا انجیل نویس اس فکر میں پڑتا ہے کہ اس کو پورا خدا بنا دے اور تیسرا تمام زمین آسمان کے اختیار اس کو دیتا ہے اور چوتھا واشگاف کہ دیتا ہے کہ وہی ہے جو کچھ ہے اور کوئی دوسرا خدا نہیں ۔ غرض اس طرح پر کھینچے کھینچتے کہیں کا کہیں لے جاتے ہیں۔ دیکھو وہ رؤیا جس میں نظر آیا تھا کہ گویا مُردے قبروں میں سے اٹھ کر شہر میں چلے گئے۔ اب ظاہری معنوں پر زور دے کر یہ جتلایا گیا کہ حقیقت میں مُردے قبروں میں سے باہر نکل آئے تھے اور یروشلم شہر میں آکر اور لوگوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ اس جگہ غور کرو کہ کیسے ایک پر کا کوا بنایا گیا۔ پھر وہ ایک کوانہ رہا بلکہ لاکھوں کوے اڑائے گئے ۔ جس جگہ مبالغہ کا یہ حال ہو اس جگہ حقیقوں کا کیونکر پتہ لگے ۔ غور کے لائق ہے کہ ان انجیلوں میں جو خدا کی کتابیں کہلاتی ہیں ایسے ایسے مبالغات بھی لکھے گئے کہ مسیح نے وہ کام کئے کہ اگر وہ سب کے سب لکھے جاتے تو وہ کتا بیں جن میں وہ لکھے جاتے دنیا میں سا نہ سکتیں ۔ کیا اتنا مبالغه طریق دیانت وامانت ہے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اگر مسیح کے کام ایسے ہی غیر محدود اور حد بندی سے باہر تھے تو تین برس کی حد میں کیونکر آ گئے۔ ان انجیلوں میں یہ بھی خرابی ہے کہ بعض پہلی کتابوں کے حوالے غلط بھی دیتے ہیں۔ شجرہ نسب میسیج کو بھی صحیح طور پر لکھ نہ سکے۔ انجیلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان بزرگوں کی عقل کچھ موٹی تھی یہاں تک کہ بعض حضرت مسیح کو بھوت سمجھ بیٹھے اور ان انجیلوں پر قدیم سے یہ بھی الزام چلا آتا ہے کہ وہ اپنی صحت پر باقی نہیں رہیں۔ اور خود جس حالت میں بہت سی اور بھی کتا بیں انجیل کے نام سے تالیف کی گئیں۔ تو ہمارے پاس کوئی پختہ دلیل اس بات پر نہیں کہ کیوں ان دوسری کتابوں کے سب کے سب مضمون رد کئے جائیں اور کیوں ان انجیلوں کا کل لکھا ہوا مان لیا جائے۔ ہم خیال نہیں کر سکتے کہ کبھی دوسری انجیلوں میں اس قدر بے اصل مبالغات حمد یوحنا باب ۲۱ آیت ۱۵۔ (ناشر)