مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 37

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۷ مسیح ہندوستان میں میں نے سید و مولی اپنے امام نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کئی دفعہ عین بیداری میں دیکھا (۳۵) ہے اور باتیں کی ہیں۔ اور ایسی صاف بیداری سے دیکھا ہے جس کے ساتھ خواب یا غفلت کا نام ونشان نہ تھا۔ اور میں نے بعض اور وفات یافتہ لوگوں سے بھی ان کی قبر پر یا اور موقعہ پر عین بیداری میں ملاقات کی ہے اور ان سے باتیں بھی کی ہیں۔ میں خوب جانتا ہوں کہ اس طرح پر عین بیداری میں گذشتہ لوگوں کی ملاقات ہو جاتی ہے اور نہ صرف ملاقات بلکہ گفتگو ہوتی ہے اور مصافحہ بھی ہوتا ہے اور اس بیداری اور روز مرہ کی بیداری میں لوازم حواس میں کچھ بھی فرق نہیں ہوتا ۔ دیکھا جاتا ہے کہ ہم اسی عالم میں ہیں اور یہی کان ہیں اور یہی آنکھیں ہیں اور یہی زبان ہے۔ مگر غور سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عالم اور ہے۔ دنیا اس قسم کی بیداری کو نہیں جانتی کیونکہ دنیا غفلت کی زندگی میں پڑی ہے یہ بیداری آسمان سے ملتی ہے یہ ان کو دی جاتی ہے جن کو نئے حواس ملتے ہیں۔ یہ ایک صحیح بات ہے اور واقعات حقہ میں سے ہے پس اگر مسیح اسی طرح یروشلم کی بربادی کے وقت يوحنا کو نظر آیا تھا تو گروہ بیداری میں نظر آیا اور گو اس سے باتیں بھی کی ہوں اور مصافحہ کیا ہوتا ہم وہ واقعہ اس پیشگوئی سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتا ۔ بلکہ یہ وہ امور ہیں جو ہمیشہ دنیا میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ اور اب بھی اگر ہم توجہ کریں تو خدا کے فضل سے مسیح کو یا اور کسی مقدس نبی کو عین بیداری میں دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ایسی ملاقات سے منتی باب ۱۶ آیت ۲۸ کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہو سکتی ۔ سواصل حقیقت یہ ہے کہ چونکہ مسیح جانتا تھا کہ میں صلیب سے بچ کر دوسرے ملک میں چلا جاؤں گا اور خدانہ مجھے ہلاک کرے گا اور نہ دنیا سے اٹھائے گا جب تک کہ میں یہودیوں کی بربادی اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں اور جب تک کہ وہ بادشاہت جو برگزیدوں کے لئے آسمان میں مقرر ہوتی ہے اپنے نتائج نہ دکھلاوے میں ہرگز وفات نہیں پاؤں گا۔ اس لئے مسیح نے یہ پیشگوئی کی تا اپنے شاگردوں کو اطمینان دے کہ عنقریب تم میرا یہ نشان دیکھو گے کہ جنہوں نے مجھ پر تلوار اٹھائی وہ میری زندگی اور میرے مشافہ میں تلواروں