مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 36

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۶ مسیح ہندوستان میں ۳۴ اس قسم کے آنے سے پیشگوئی پوری نہیں ہو سکتی یہ تو نہایت ضعیف تاویل ہے ۔ گویا نکتہ چینوں سے ☆ نہایت تکلف کے ساتھ پیچھا چھوڑانا ہے۔ اور یہ معنی اس قدر غلط اور بدیہی البطلان ہیں کہ اس کے رد کرنے کی بھی حاجت نہیں ۔ کیونکہ اگر مسیح نے خواب یا کشف کے ذریعہ سے کسی پر ظاہر ہونا تھا تو پھر ایسی پیشگوئی گویا ایک ہنسی کی بات ہے ۔ اس طرح تو ایک مدت اس سے پہلے حضرت مسیح پولوس پر بھی ظاہر ہو چکے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیشگوئی جو متی باب آیت ۲۸ میں ہے اس نے پادری صاحبوں کو نہایت گھبراہٹ میں ڈال رکھا ہے۔ اور وہ اپنے عقیدہ کے موافق کوئی معقول معنی اس کے نہیں کر سکے ۔ کیونکہ یہ کہنا ان کے لئے مشکل تھا کہ مسیح یروشلم کی بربادی کے وقت اپنے جلال کے ساتھ آسمان سے نازل ہوا تھا۔ اور جس طرح آسمان پر ہر ایک طرف چمکنے والی بجلی سب کو نظر آ جاتی ہے سب نے اس کو دیکھا تھا۔ اور انجیل کے اس فقرہ کو بھی نظر انداز کرنا ان کے لئے آسان نہ تھا کہ ان میں سے جو یہاں کھڑے ہیں بعضے ہیں کہ جب تک ابن آدم کو اپنی بادشاہت میں آتے دیکھ نہ لیں موت کا مزہ نہ چکھیں گے ۔ لہذا نہایت تکلف سے اس پیشگوئی کو کشفی رنگ میں مانا گیا مگر یہ نادرست ہی ہے کشفی طور پر تو ہمیشہ خدا کے برگزیدہ بندے خاص لوگوں کو نظر آجایا کرتے ہیں۔ اور کشفی طور میں خواب کی بھی شرط نہیں بلکہ بیداری میں ہی نظر آجاتے ہیں چنانچہ میں خود اس میں صاحب تجربہ ہوں ۔ میں نے کئی دفعہ کشفی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھا ہے۔ اور اور بعض نبیوں سے بھی میں نے عین بیداری میں ملاقات کی ہے۔ اور میں نے بعض کتابوں میں دیکھا ہے کہ اس زمانہ کے مولوی عیسائیوں سے بھی زیادہ متی باب ۲۶ آیت کے پُر تکلف معنی کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جبکہ مسیح نے اپنے آنے کے لئے یہ شرط لگا دی تھی کہ بعض شخص اس زمانہ کے ابھی زندہ ہوں گے اور ایک حواری بھی زندہ ہو گا جب مسیح آئے گا تو اس صورت میں ضروری ہے کہ وہ حواری اب تک زندہ ہو کیونکہ مسیح اب تک نہیں آیا اور وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ حواری کسی پہاڑ میں پوشیدہ طور پر بیچ کے انتظار میں چھپ کر بیٹھا ہوا ہے۔ منہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے متی باب ۱۶ آیت ۲۸ “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)