مسیح ہندوستان میں — Page 36
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۶ مسیح ہندوستان میں (۳۲) اس قسم کے آنے سے پیشگوئی پوری نہیں ہو سکتی یہ تو نہایت ضعیف تاویل ہے۔ گو یا نکتہ چینوں سے نہایت تکلف کے ساتھ پیچھا چھوڑانا ہے۔ اور یہ معنی اس قدر غلط اور بدیہی البطلان ہیں کہ اس کے رد کرنے کی بھی حاجت نہیں۔ کیونکہ اگر مسیح نے خواب یا کشف کے ذریعہ سے کسی پر ظاہر ہونا تھا تو پھر ایسی پیشگوئی گویا ایک ہنسی کی بات ہے۔ اس طرح تو ایک مدت اس سے پہلے حضرت مسیح پولوس پر بھی ظاہر ہو چکے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیشگوئی جو متی بابا آیت ۲۸ میں ہے اس نے پادری صاحبوں کو نہایت گھبراہٹ میں ڈال رکھا ہے۔ اور وہ اپنے عقیدہ کے موافق کوئی معقول معنی اس کے نہیں کر سکے۔ کیونکہ یہ کہنا ان کے لئے مشکل تھا کہ مسیح میروشلم کی بربادی کے وقت اپنے جلال کے ساتھ آسمان سے نازل ہوا تھا۔ اور جس طرح آسمان پر ہر ایک طرف چپکنے والی بجلی سب کو نظر آ جاتی ہے سب نے اس کو دیکھا تھا۔ اور انجیل کے اس فقرہ کو بھی نظر انداز کرنا ان کے لئے آسان نہ تھا کہ ان میں سے جو یہاں کھڑے ہیں بعضے ہیں کہ جب تک ابن آدم کو اپنی بادشاہت میں آتے دیکھ نہ لیں موت کا مزہ نہ چکھیں گے۔ لہذا نہایت تکلف سے اس پیشگوئی کو کشفی رنگ میں مانا گیا مگر یہ نادرست ہی ہے کشفی طور پر تو ہمیشہ خدا کے برگزیدہ بندے خاص لوگوں کو نظر آ جایا کرتے ہیں۔ اور کشفی طور میں خواب کی بھی شردا نہیں بلکہ بیداری میں ہی نظر آ جاتے ہیں چنانچہ میں خود اس میں صاحب تجربہ ہوں۔ میں نے کئی دفعہ کشفی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھا ہے۔ اور اور بعض نبیوں سے بھی میں نے عین بیداری میں ملاقات کی ہے۔ اور ہیں میں نے بعض کتابوں میں دیکھا ہے کہ اس زمانہ کے مولوی عیسائیوں سے بھی زیادہ مستی باب ۲۶ آیت ۴ کے پر تکلف معنی کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جبکہ مسیح نے اپنے آنے کے لئے یہ شرط لگا دی تھی کہ بعض ملخص اس زمانہ کے ابھی زندہ ہوں گے اور ایک حواری بھی زندہ ہو گا جب مسیح آئے گا تو اس صورت میں ضروری ہے کہ وہ حواری اب تک زندہ ہو کیونکہ میں اب تک نہیں آیا اور وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ حواری کسی پہاڑ میں پوشیدہ طور پر مسیح کے انتظار میں چھپ کر بیٹھا ہوا ہے ۔ منہ منه ہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ” متی باب ۱۶ آیت ۲۸ “ہونا چاہیے۔(ناشر)