مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 32

روحانی خزائن جلد ۱۵ مسیح ہندوستان میں (۳۰) دعا کی۔ اور پھر جبکہ خدا اپنے پیارے بندوں کی ضرور سنتا ہے اور شریروں کے مشورہ کو باطل کر کے دکھاتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ مسیح کی دعا نہیں سنی گئی۔ ہر ایک صادق کا تجربہ ہے کہ بیقراری اور مظلومانہ حالت کی دعا قبول ہوتی ہے بلکہ صادق کے لئے مصیبت کا وقت نشان ظاہر کرنے کا وقت ہوتا ہے چنانچہ میں خود اس میں صاحب تجربہ ہوں ۔ مجھے یاد ہے کہ دو برس کا عرصہ ہوا ہے کہ مجھے پر ایک جھوٹا مقدمه اقدام قتل کا ایک صاحب ڈاکٹر مارٹن کلارک عیسائی مقیم امرت سر پنجاب نے عدالت ضلع گورداسپورہ میں دائر کیا اور یہ استغاثہ پیش کیا کہ گویا میں نے ایک شخص عبدالحمید نامی کو بھیج کر ڈاکٹر مذکور کو قتل کرنا چاہا تھا اور ایسا اتفاق ہوا کہ اس مقدمہ میں تینوں قوم کے چند منصو بہ باز آدمی یعنی عیسائی اور ہندو اور مسلمان میرے مخالف متفق ہو گئے اور جہاں تک ان سے ہوسکتا تھا یہ کوشش کی کہ مجھ پر اقدام قتل کا الزام ثابت ہو جائے ۔ عیسائی پادری مجھ سے اس وجہ سے ناراض تھے کہ میں اس کوشش میں تھا اور اب بھی ہوں کہ میسیج کی نسبت جو ان کا غلط خیال ہے اس سے خدا کے بندوں کو نجات دوں اور یہ اول نمونہ تھا جو میں نے ان لوگوں کا دیکھا۔ اور ہندو مجھ سے اس وجہ سے ناراض تھے کہ میں نے لیکھرام نامی ان کے ایک پنڈت کی نسبت اس کی رضا مندی سے اس کے مرنے کی کی رضامندی نسبت خدا کا الہام پا کر پیشگوئی کی تھی اور وہ پیشگوئی اپنی میعاد میں اپنے وقت پر پوری ہوگئی اور وہ خدا کا ایک ہیبت ناک نشان تھا اور ایسا ہی مسلمان مولوی بھی ناراض تھے کیونکہ میں ان کے خونی مہدی اور خونی مسیح کے آنے سے اور نیز ان کے جہاد کے مسئلہ کا مخالف تھا۔ لہذا ان تین قوموں کے بعض سر بر آوردہ لوگوں نے یہ مشورہ کیا کہ کسی طرح قتل کا جرم میرے پر لگ جائے اور میں مارا جاؤں یا قید کیا جاؤں۔ اور ان خیالات میں وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں ظالم تھے۔ اور خدا نے مجھے اس گھڑی سے پہلے کہ ایسے منصوبے مخفی طور پر کئے جائیں اطلاع دے دی ۔ اور پھر انجام کار بری کرنے کی مجھے خوشخبری سنائی۔ اور یہ خدا کے پاک الہام صد ہالوگوں میں قبل از وقت مشہور کئے گئے اور جبکہ