مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 26

روحانی خزائن جلد ۱۵ مسیح ہندوستان میں (۲۳) جن سے خون بہتا تھا اور درد اور تکلیف ان کے ساتھ تھی جن کے واسطے ایک مرہم بھی طیار کی گئی تھی۔ اور جلالی اور غیر فانی جسم کے بعد بھی جو ابد تک سلامت اور بے عیب اور کامل اور غیر متغیر چاہیے تھا کئی ۲۶ قسم کے نقصانوں سے بھرا رہا اور خود مسیح نے حواریوں کو اپنا گوشت اور ہڈیاں دکھلائیں اور پھر اسی پر کفایت نہیں بلکہ اس فانی جسم کے لوازم میں سے بھوک اور پیاس کی درد بھی موجود تھی ورنہ اس لغو حرکت کی کیا ضرورت تھی کہ میچ جلیل کے سفر میں کھانا کھاتا اور پانی پیتا اور آرام کرتا اور سوتا۔ اس میں کیا شک ہے کہ اس عالم میں جسم فانی کے لئے بھوک اور پیاس بھی ایک درد ہے جس کے حد سے زیادہ ہونے سے انسان مرسکتا ہے۔ پس بلا شبہ یہ بات سچ ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا اور نہ کوئی نیا جلالی جسم پایا بلکہ ایک غشی کی حالت ہوگئی تھی جو مرنے سے مشابہ تھی ۔ اور خدائے تعالیٰ کے فضل سے یہ اتفاق ہوا کہ جس قبر میں وہ رکھا گیا وہ اس ملک کی قبروں کی طرح نہ تھی بلکہ ایک ہوا دار کو ھہ تھا جس میں ایک کھڑکی تھی اور اس زمانہ میں یہودیوں میں یہ رسم تھی کہ قبر کو ایک ہوادار اور کشادہ کوٹھہ کی طرح بناتے تھے اور اس میں ایک کھڑ کی رکھتے تھے اور ایسی قبریں پہلے سے موجود رہتی تھیں اور پھر وقت پر میت اس میں رکھی جاتی تھی۔ چنانچہ یہ گوری انجیلوں سے صاف طور پر ملتی ہے۔ انجیل لوقا میں یہ عبارت ہے اور وے یعنی عورتیں اتوار کے دن بڑے بڑ کے یعنی کچھ اندھیرے سے ہی ان خوشبوؤں کو جو طیار کی تھیں لے کر قبر پر آئیں اور ان کے ساتھ کئی اور بھی عورتیں تھیں ۔ اور انہوں نے پتھر کو قبر پر سے ڈھلکا ہوا پایا۔ (اس مقام میں ذرہ غور کرو) اور اندر جا کے خداوند یسوع کی لاش نہ پائی دیکھو لوقا باب ۲۴۔ آیت ۲ و ۳ ۔ اب اندر جانے کے لفظ کو ذرہ سوچو۔ ظاہر ہے کہ اسی قبر کے اندرانسان جا سکتا ہے کہ جو ایک کو ٹھے کی طرح ہو اور اس میں کھڑ کی ہو ۔ اور ہم اپنے محل پر اسی کتاب میں بیان کریں گے کہ حال میں جو حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں پائی گئی ہے وہ بھی اس قبر کی طرح کھڑکی دار ہے۔ اور یہ ایک بڑے راز کی بات ہے جس پر توجہ کرنے