مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 23

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۳ مسیح ہندوستان میں کا دن تھا اور صرف تھوڑا سا دن باقی تھا اور اگلے دن سبت اور یہودیوں کی عید فسح تھی اور یہودیوں ﴿۲۱﴾ کے لئے یہ حرام اور قابل سزا جرم تھا کہ کسی کو سبت یا سبت کی رات میں صلیب پر رہنے دیں اور مسلمانوں کی طرح یہودی بھی قمری حساب رکھتے تھے اور رات دن پر مقدم سمجھی جاتی تھی ۔ پس ایک طرف تو یہ تقریب تھی کہ جو زمینی اسباب سے پیدا ہوئی۔ اور دوسری طرف آسمانی اسباب خدا تعالی کی طرف سے یہ پیدا ہوئے کہ جب چھٹا گھنٹہ ہوا تو ایک ایسی آندھی آئی کہ جس سے ساری زمین پراندھیرا چھا گیا اور وہ اندھیرا تین گھنٹے برابر رہا۔ دیکھو مرقس بابا آیت ۳۳۔ یہ چھٹا گھنٹہ بارہ بجے کے بعد تھا۔ یعنی وہ وقت جو شام کے قریب ہوتا ہے۔ اب یہودیوں کو اس شدت اندھیرے میں یہ فکر پڑی کہ مبادا سبت کی رات آ جائے اور وہ سبت کے مجرم ہو کر تاوان کے لائق ٹھہریں۔ اس لئے انہوں نے جلدی سے مسیح کو اور اس کے ساتھ کے دو چوروں کو بھی صلیب پر سے اتارلیا۔ اور اس کے ساتھ ایک اور آسمانی سبب یہ پیدا ہوا کہ جب پلا طوس کچہری کی مسند پر بیٹھا تھا اس کی جو رو نے اسے کہلا بھیجا کہ تو اس راستباز سے کچھ کام نہ رکھ (یعنی اس کے قتل کرنے کے لئے سعی نہ کر) کیونکہ میں نے آج رات خواب میں اس کے سبب سے بہت تکلیف پائی دیکھومتی باب ۲۷ آیت ۱۹۔ سو یہ فرشتہ جو خواب میں پلاٹس کی جورو کو دکھایا گیا۔ اس سے ہم اور ہر ایک منصف یقینی طور پر یہ سمجھے گا کہ خدا کا ہرگز یہ منشاء نہ تھا کہ میں صلیب پر وفات پاوے۔ جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی آج تک یہ کبھی نہ ہوا کہ جس شخص کے بچانے کے لئے خدائے تعالی رؤیا میں کسی کو تر غیب دے کہ ایسا کرنا چاہیے تو وہ بات خطا جائے۔ مثلاً انجیل متی میں لکھا ہے کہ خداوند کے ایک فرشتہ نے یوسف کو خواب میں دکھائی دے کے کہا ”اٹھ اس لڑکے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کر مصر کو بھاگ جا اور وہاں جب تک میں تجھے خبر نہ دوں ٹھہرارہ کیونکہ ہیرو دوس اس لڑکے کو ڈھونڈے گا کہ مارڈالئے“۔ دیکھو انجیل متی باب آیت ۱۳۔ اب کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ یسوع کا مصر میں پہنچ کر مارا جانا ممکن تھا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے' باب ۱۵ “ ہونا چاہیے۔(ناشر)