مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 22

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۲ مسیح ہندوستان میں ۲۰﴾ جو زخمی تھے دکھائے اور انہوں نے گمان کیا کہ شاید یہ روح ہے۔ تب اس نے کہا کہ مجھے چھوڑ اور دیکھو کیونکہ روح کو جسم اور ہڈی نہیں جیسا کہ مجھ میں دیکھتے ہو اور ان سے ایک بھونی ہوئی مچھلی کا ٹکڑا اور شہد کا ایک چھتا لیا اور ان کے سامنے کھایا۔ دیکھو مرقس باب آیت ۱۴۔ اور لوقا باب ۲ آیت ۱۳۹ اور ۴۰ اور ۴۱ اور ۴۲ ۔ ان آیات سے یقیناً معلوم ہوتا ہے کہ مسیح ہرگز آسمان پر نہیں گیا بلکہ قبر سے نکل کر جلیل کی طرف گیا اور معمولی جسم اور معمولی کپڑوں میں انسانوں کی طرح تھا۔ اگر وہ مرکر زندہ ہوتا تو کیونکر ممکن تھا کہ جلالی جسم میں صلیب کے زخم باقی رہ جاتے اور اس کو روٹی کھانے کی کیا حاجت تھی اور اگر تھی تو پھر اب بھی روٹی کھانے کا محتاج ہوگا ۔ ناظرین کو اس دھو کے میں نہیں پڑنا چاہیے کہ یہودیوں کی صلیب اس زمانہ کی پھانسی کی طرح ہوگی جس سے نجات پانا قریباً محال ہے کیونکہ اس زمانہ کی صلیب میں کوئی رسا گلے میں نہیں ڈالا جاتا تھا اور نہ تختہ پر سے گرا کر لڑکا یا جاتا تھا بلکہ صرف صلیب پر کھینچ کر ہاتھوں اور پیروں میں کیل ٹھونکے جاتے تھے اور یہ بات ممکن ہوتی تھی کہ اگر صلیب پر کھینچنے اور کیل ٹھونکنے کے بعد ایک دودن تک کسی کی جان بخشی کا ارادہ ہو تو اسی قدر عذاب پر کفایت کر کے ہڈیاں توڑنے سے پہلے اس کو زندہ اتار لیا جائے ۔ اور اگر مارنا ہی منظور ہوتا تھا تو کم سے کم تین دن تک صلیب پر کھنچا ہوا ر ہنے دیتے تھے اور پانی اور روٹی نزدیک نہ آنے دیتے تھے اور اسی طرح دھوپ میں تین دن یا اس سے زیادہ چھوڑ دیتے تھے اور پھر اس کے بعد اس کی ہڈیاں توڑتے تھے اور پھر آخران تمام عذابوں کے بعد وہ مر جاتا تھا لیکن خدا تعالیٰ کے فضل وکرم نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اس درجہ کے عذاب سے بچا لیا جس سے زندگی کا خاتمہ ہو جاتا۔ انجیلوں کو ذرہ غور کی نظر سے پڑھنے سے آپ کو معلوم ہوگا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نہ تین دن تک صلیب پر رہے اور نہ تین دن کی بھوک اور پیاس اٹھائی اور نہ ان کی ہڈیاں توڑی گئیں بلکہ قریباً دو گھنٹہ تک صلیب پر رہے اور خدا کے رحم اور فضل نے ان کے لئے یہ تقریب قائم کر دی کہ دن کے اخیر حصے میں صلیب دینے کی تجویز ہوئی اور وہ جمعہ