مسیح ہندوستان میں — Page 13
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۳ مسیح ہندوستان میں یہ لوگ اس کے دشمن ہو جاتے ہیں اور اس کو فی الفور کا فر ٹھہرایا جاتا اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھا (1) جاتا ہے چنانچہ میں بھی انہی وجوہ سے ان لوگوں کی نظر میں کافر ہوں کیونکہ ایسے خونی مہدی اور خونی مسیح کے آنے کا قائل نہیں ہوں بلکہ ان بیہودہ عقیدوں کو سخت کراہت اور نفرت سے دیکھتا ہوں اور میرے کافر کہنے کی صرف یہی وجہ نہیں کہ میں نے ایسے فرضی مہدی اور فرضی مسیح کے آنے سے انکار کر دیا ہے جس پر ان کا اعتقاد ہے بلکہ ایک یہ بھی وجہ ہے کہ میں نے خدائے تعالیٰ سے الہام پاکر اس بات کا عام طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ حقیقی اور واقعی مسیح موعود جو وہی در حقیقت مہدی بھی ہے جس کے آنے کی بشارت انجیل اور قرآن میں پائی جاتی ہے اور احادیث میں بھی اس کے آنے کے لئے وعدہ دیا گیا ہے وہ میں ہی ہوں مگر بغیر تلواروں اور بندوقوں کے۔ اور خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ نرمی اور آہستگی اور علم اور غربت کے ساتھ اس خدا کی طرف لوگوں کو توجہ دلاؤں جو سچا خدا اور قدیم اور غیر متغیر ہے اور کامل تقدس اور کامل علم اور کامل رحم اور کامل انصاف رکھتا ہے۔ اس تاریکی کے زمانہ کا نور میں ہی ہوں۔ جو شخص میری پیروی کرتا ہے وہ ان گڑھوں اور خندقوں سے بچایا جائے گا جو شیطان نے تاریکی میں چلنے والوں کے لئے تیار کئے ہیں ۔ مجھے اس نے بھیجا ہے کہ تا میں امن اور حلم کے ساتھ دنیا کو بچے خدا کی طرف رہبری کروں اور اسلام میں اخلاقی حالتوں کو دوبارہ قائم کر دوں ۔ اور مجھے اس نے حق کے طالبوں کی تسلی پانے کے لئے آسمانی نشان بھی عطا فرمائے ہیں اور میری تائید میں اپنے عجیب کام دکھلائے ہیں اور غیب کی باتیں اور آئندہ کے بھید جو خدائے تعالیٰ کی پاک کتابوں کی رو سے صادق کی شناخت کے لئے اصل معیار ہے میرے پر کھولے ہیں اور پاک معارف اور علوم مجھے عطا فرمائے ہیں اس لئے ان روحوں نے مجھ سے دشمنی کی جو سچائی کو نہیں چاہتیں اور تاریکی سے خوش ہیں مگر میں نے چاہا کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکے نوع انسان کی ہمدردی کروں ۔ سو اس زمانہ میں عیسائیوں کے ساتھ بڑی ہمدردی یہ ہے کہ ان کو اس بچے خدا کی طرف توجہ دی جائے جو پیدا ہونے اور مرنے اور درد دکھ وغیرہ نقصانوں سے پاک ہے۔ وہ خدا جس نے تمام ابتدائی اجسام و اجرام کو