مسیح ہندوستان میں — Page xxix
15 ’’اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گذرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔‘‘ پس اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ آپ نے یہ تحریر ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو لکھی تھی اور کشتی نوح میں اس سے بیس دن پہلے آپ تحریر فرما چکے تھے کہ مسیح محمدی مسیح موسوی سے افضل ہے تو آپ تریاق القلوب میں بیس دن بعد اس کے خلاف کیونکر لکھ سکتے تھے۔پس حقیقت یہی ہے کہ تریاق القلوب کا یہ صفحہ بھی ۱۸۹۹ء کا لکھا ہوا تھا نہ کہ ۱۹۰۲ء کا۔اور تریاق القلوب سے بھی ظاہر ہے کہ یہ کتاب ۱۸۹۹ء میں لکھی گئی تھی۔اصل کتاب جو جلد ھٰذا کے صفحہ ۱۷۱ پر ختم ہوئی ہے۔اس کے آخر میں اس کے لکھے جانے کی تاریخ یکم اگست ۱۸۹۹ء لکھی ہے اور اس جلد کے صفحہ ۴۴۴ اور ایڈیشن اوّل کے صفحہ ۱۳۷ میں آپ تحریر فرماتے ہیں:۔’’اب اس وقت تک کہ ۵؍ دسمبر ۱۸۹۹ء ہے‘‘ گویا ۱۳۷ صفحات ایڈیشن اوّل کے ۵؍ دسمبر ۱۸۹۹ء تک لکھے جا چکے تھے اور اس وقت آپ آگے لکھ رہے تھے۔اور دوسرے ضمیموں کی تاریخیں اُوپر ذکر کی جا چکی ہیں۔پس تریاق القلوب سے اندرونی شہادت بھی یہی ظاہر کرتی ہے کہ یہ کتاب دسمبر ۱۸۹۹ء میں مکمل ہو چکی تھی۔جب ۱۹۰۲ء میں اس کی اشاعت کا وقت آیا تو اس وقت صرف آخری صفحہ ضمیمہ نمبر ۲ کا آپ نے ۲۵ ؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو تحریر فرمایا۔چونکہ آپ کا ارادہ تریاق القلوب میں سو سے زیادہ نشانات ذکر کرنے کا تھا۔لیکن اس اثناء میں آپ کتاب نزول المسیح کی تصنیف شروع فرما چکے تھے۔اس لئے ضمیمہ نمبر ۲ کی آخری سطور میں آپ نے فرمایا:۔’’اور واضح ہو کہ اس کتاب کا وہ حصہ جس میں پیشگوئیاں ہیں پورے طور پر شائع نہیں ہوا۔کیونکہ کتاب نزول المسیح نے اس سے مستغنی کر دیا جس میں ڈیڑھ سو پیشگوئی درج ہے۔خدا نے جو چاہا وہی ہوا۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد نمبر۱۵، صفحہ ۴۸۶)