مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 104

۱۰۴ روحانی خزائن جلد ۱۵ مسیح ہندوستان میں ۱۰۲ سے حیرت انگیز طور پر مشابہت رکھتے ہیں اور اس بات کو ان محققوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے جو افغانوں کے دعوائے یہودی الاصل ہونے پر کچھ التفات نہیں کرتے ۔ اور یہی ایک ثبوت ہے جو اُن کے یہودی الاصل ہونے کے بارے میں مل سکتا ہے۔ سرجان ملکم کے الفاظ اس بارے میں یہ ہیں: ۔ اگر چہ افغانوں کا ( یہودیوں کی ) معز زنسل سے ہونے کا دعویٰ بہت مشتبہ ہے۔ لیکن ان کی شکل و ظاہری خط و خال اور ان کے اکثر رسوم سے یہ امر صاف ظاہر ہے کہ وہ (افغان) فارسیوں ، تاتاریوں اور ہندیوں سے ایک جدا قوم ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہی بات اس بیان کو معتبر ٹھہراتی ہے جس کی مخالفت بہت سے قومی واقعات کرتے ہیں اور جس کا کوئی صاف ثبوت نہیں ملتا۔ اگر ایک قوم کی دوسری قوم کے ساتھ شکل و وضع میں مشابہت رکھنے سے کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے تو کشمیری اپنے یہودیوں والے خط و خال کی وجہ سے یقینا یقینا یہودی الاصل ثابت ہوں گے اور اس بات کا صرف بر نیر نے ہی نہیں بلکہ فارسٹر اور شاید دیگر محققوں نے ذکر کیا ہے۔ اگر چہ فارسٹر بر نیر کی رائے کو تسلیم نہیں کرتا تاہم وہ اقرار کرتا ہے کہ جب وہ کشمیریوں میں تھا تو اس نے خیال کیا کہ وہ ایک یہودیوں کی قوم کے درمیان رہتا ہے۔ اور کتاب ڈکشنری آف جیو گرافی مرتبہ اے کے جانسٹن کے صفحہ ۲۵۰ میں کشمیر کے لفظ کے بیان میں یہ عبارت ہے:۔ یہاں کے باشندے دراز قد، قوی ہیکل مردانہ شباہت والے عورتیں مکمل اندام والیس خوبصورت بلند خمدار بینی والے شکل و وضع میں بالکل یہودیوں کے مشابہ ہیں۔ اور سول اینڈ ملٹری گزٹ ( مطبوعه ۲۳ / نومبر ۱۸۹۸ء صفحه ۴) میں بعنوان مضمون سواتی اور آفریدی (اقوام ) لکھا ہے کہ ہمیں ایک اعلیٰ درجہ کا قیمتی اور دلچسپ مضمون ملا ہے جو برٹش ایسوسی ایشن کے ایک حال کے جلسہ میں ایسوسی ایشن مذکورہ کی شاخ متعلقہ تاریخ طبعی نوع انسان میں پیش کیا گیا ہے اور جو کمیٹی تحقیقات تاریخ