مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 103

روحانی خزائن جلد ۱۵ مسیح ہندوستان میں غور میں چلا گیا اور یہاں ان کی اولا درہ پڑی۔ دن بدن ان کی تعداد بڑھتی گئی اور لوگوں نے 10 ) ان کو بنی اسرائیل بنی آصف اور بنی افغان کے ناموں سے موسوم کیا۔ صفحہ ۶۴ میں مصنف مذکور کا قول ہے کہ معتبر کتب مثلاً تاریخ افغانی، تاریخ غوری وغیرہ میں یہ دعویٰ درج ہے افغان بہت زیادہ حصہ تو بنی اسرائیل ہیں اور کچھ حصہ قبطی“۔ نیز ابوالفضل کا بیان ہے کہ بعض افغان اپنے آپ کو مصری الاصل سمجھتے ہیں اور یہ وجہ پیش کرتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل یروشلم سے مصر واپس گئے ۔ اس فرقہ ( یعنی افغان ) نے ہندوستان کو نقل مقام کیا۔ اور صفحہ ۶۴ میں فرید الدین احمد افغان کے نام کی بابت یہ لکھتا ہے: افغان نام کی نسبت بعض نے یہ لکھا ہے کہ ( شام سے ) جلا وطنی کے بعد جب وہ ہر وقت اپنے وطن مالوف کا دل میں خیال لاتے تھے تو آہ و فغان کرتے تھے لہذا ان کا نام افغان ہوا اور یہی رائے سرجان ملکم کی ہے دیکھو ہسٹری آف پرشیا جلد اصفحہ ۱۰۱۔ اور صفحہ ۶۳ میں مہابت خان کا بیان ہے کہ چوں ایشاں از توابع و لواحق سلیمان علیہ السلام اند بنابراں ایشان را مردم عرب سلیمانی گویند اور صفحہ ۶۵ میں لکھا ہے تقریباً تمام مشرقی مؤرخوں کی یہی تحقیقات ہے کہ افغان قوم کا اپنا یہی اعتقاد ہے کہ وہ یہودی الاصل ہیں ۔ اور اس رائے کو زمانہ حال کے بعض مؤرخوں نے بھی اختیار کیا ہے یا غالباً صحیح سمجھا ہے اور یہ رواج کہ افغان یہودیوں کے نام اپنے نام رکھتے ہیں بے شک افغانوں کے مسلمان ہو جانے کی وجہ سے ہے (لیکن مترجم برنہارڈ دورن کا یہ خیال کوئی ثبوت نہیں رکھتا ۔ پنجاب کے شمال و مغربی حصہ میں اکثر ایسی قومیں ہندی الاصل آباد ہیں جو آباد ہوگئی ہیں لیکن ان کے نام یہودی ناموں کی طرز پر ہر گز نہیں ۔ جس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ہو جانے سے ایک قوم میں یہودی نام داخل نہیں ہو جاتے ) افغان کے خط و خال یہودیوں