مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 91

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۹۱ مسیح ہندوستان میں بدھ یا بدھ ستوا کی روح کا کوئی حصہ موجودہ لاموں میں حلول کر آتا ہے یعنی اس کی قوت اور (۸۹ طبیعت اور روحانی خاصیت موجود و لامہ میں آجاتی ہے اور اس کی روح اس میں اثر کرنے لگتی ہے۔(۳) تیسری قسم تناسخ کی یہ ہے کہ اسی زندگی میں طرح طرح کی پیدائشوں میں انسان گذرتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ در حقیقت اپنے ذاتی خواص کے لحاظ سے انسان بن جاتا ہے۔ ایک زمانہ انسان پر وہ آتا ہے کہ گویا وہ بیل ہوتا ہے اور پھر زیادہ حرص اور کچھ شرارت بڑھتی ہے تو کتا بن جاتا ہے اور ایک ہستی پر موت آتی ہے اور دوسری ہستی پہلی ہستی کے اعمال کے موافق پیدا ہو جاتی ہے لیکن یہ سب تغیرات اسی زندگی میں ہوتے ہیں ۔ اس لئے یہ عقیدہ بھی انجیل کی تعلیم کے مخالف نہیں ہے۔ اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ بدھ شیطان کا بھی قائل ہے۔ ایسا ہی دوزخ اور بہشت اور ملائک اور قیامت کو بھی مانتا ہے اور یہ الزام جو بدھ خدا کا منکر ہے یہ محض افترا ہے بلکہ بدھ ویدانت کا منکر ہے اور اُن جسمانی خداؤں کا منکر ہے جو ہندو مذہب میں بنائے گئے تھے ۔ ہاں وہ وید پر بہت نکتہ چینی کرتا ہے اور موجودہ وید کو صحیح نہیں مانتا اور اس کو ایک بگڑی ہوئی اور محرف اور مبدل کتاب خیال کرتا ہے اور جس زمانہ میں وہ ہندو اور وید کا تابع تھا اس زمانہ کی پیدائش کو ایک بُری پیدائش قرار دیتا ہے۔ چنانچہ وہ اشارات کے طور پر کہتا ہے کہ میں ایک مدت تک بندر بھی رہا اور ایک زمانہ تک ہاتھی اور پھر میں ہرن بھی بنا اور کتا بھی اور چار دفعہ میں سانپ بنا۔ اور پھر چڑیا بھی بنا اور مینڈک بھی بنا اور دو دفعہ مچھلی بنا اور دس دفعہ شیر بنا اور چار دفعہ مرغا بنا اور دو دفعہ میں سور بنا اور ایک دفعہ خرگوش بنا اور خرگوش بننے کے زمانہ میں بندروں اور گیدڑوں اور پانی کے کتوں کو تعلیم دیا کرتا تھا۔ اور پھر کہتا ہے کہ ایک دفعہ میں بھوت بنا اور ایک دفعہ عورت بنا اور ایک دفعہ ناچنے والا