مسیح ہندوستان میں — Page 89
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۸۹ مسیح ہندوستان میں دل شکنی کرنے کے دونوں قصے بھی باہم ایک گونہ مشابہت رکھتے ہیں لیکن ہم ایسے قصے جو عام ۸۷ اخلاقی حالت سے بھی گرے ہوئے ہیں نہ مسیح کی طرف منسوب کر سکتے ہیں اور نہ گوتم بدھ کی طرف۔ اگر بدھ کو اپنی عورت سے محبت نہیں تھی تو کیا اس عاجز عورت اور شیر خوار بچہ پر رحم بھی نہیں تھا۔ یہ ایسی بداخلاقی ہے کہ صد ہا برس کے گذشتہ رفتہ قصے کوسن کر اب ہمیں درد پہنچ رہا ہے کہ کیوں اس نے ایسا کیا۔ انسان کی بدی کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنی عورت کی ہمدردی سے لا پر وا ہو بجز اس صورت کے کہ وہ عورت نیک چلن اور تابع حکم نہ رہے اور یا بے دین اور بدخواہ اور دشمن جان ہو جائے ۔ سو ہم ایسی گندی کا رروائی بدھ کی طرف منسوب نہیں کر سکتے جو خود اس کی نصیحتوں کے بھی بر خلاف ہے۔ لہذا اس قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ غلط ہے۔ اور در حقیقت را حولتا سے مراد حضرت عیسی ہیں جن کا نام روح اللہ ہے اور روح اللہ کا لفظ عبرانی زبان میں را حولنا سے بہت مشابہ ہو جاتا ہے اور را حولنا یعنی روح اللہ کو بدھ کا شاگر د اسی وجہ سے قرار دیا گیا ہے جس کا ذکر ابھی ہم کر چکے ہیں۔ یعنی مسیح جو بعد میں آ کر بدھ کے مشابہ تعلیم لایا۔ اس لئے بدھ مذہب کے لوگوں نے اس تعلیم کا اصل منبع بدھ کو قرار دے کر مسیح کو اس کا شاگرد قرار دے دیا۔ اور کچھ تعجب نہیں کہ بدھ نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر حضرت مسیح کو اپنا بیٹا بھی قرار دیا ہو۔ اور ایک بڑا قرینہ اس جگہ یہ ہے کہ اسی کتاب میں لکھا ہے کہ جب را حولتا کو اس کی والدہ سے علیحدہ کیا گیا تو ایک عورت جو بدھ کی مرید تھی جس کا نام مگدالیا نا تھا اس کام کے لئے درمیان میں اینچی بنی تھی ۔ اب دیکھو مگر الیانا کا نام در حقیقت مگر لینی سے بگاڑا ہوا ہے۔ اور مگر لینی ایک عورت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مرید تھی جس کا ذکر انجیل میں موجود ہے۔ یہ تمام شہادتیں جن کو ہم نے مجملاً لکھا ہے ہر ایک منصف کو اس نتیجہ تک پہنچاتی ہیں کہ ضرور حضرت عیسی علیہ السلام اس ملک میں تشریف لائے تھے اور