مسیح ہندوستان میں — Page 85
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۸۵ مسیح ہندوستان میں ایک جاپانی شخص ہے جس نے آئی سنگ کی کتاب کا ترجمہ کیا ہے۔ اور آئی سنگ ایک چینی سیاح ۸۳ ☆ ہے جس کی کتاب کے حاشیہ پر اور ضمیمہ میں ٹکا کو سو نے تحریر کیا ہے کہ ایک قدیم تالیف میں مِنْ شِيْ هُو (مسیح) کا نام درج ہے اور یہ تالیف قریباً ساتویں صدی کی ہے اور پھر اس کا ترجمہ حال میں ہی کلیرنڈن پرلیس آکسفورڈ میں جی ٹکا کو سو نام ایک جاپانی نے کیا ۔ غرض اس کتاب میں مشیح کا لفظ موجود ہے جس سے ہم یہ یقین سمجھ سکتے ہیں کہ یہ لفظ بدھ مذہب والوں کے پاس باہر سے نہیں آیا بلکہ بدھ کی پیشگوئی سے یہ لفظ لیا گیا ہے جس کو کبھی انہوں نے مشیح کر کے لکھا اور کبھی بگوا متیا کرکے ۔ اور منجملہ ان شہادتوں کے جو بُدھ مذہب کی کتابوں سے ہم کو ملی ہیں ایک یہ ہے کہ بده ایزم مصنفہ سر مونیر ولیم صفحہ ۴۵ میں لکھا ہے کہ چھٹا مر ید بدھ کا ایک شخص تھا جس کا نام لیا تھا۔ یہ لفظ یسوع کے لفظ کا مخفف معلوم ہوتا ہے۔ چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام بُدھ کی وفات سے پانچسو برس گزرنے کے بعد یعنی چھٹی صدی میں پیدا ہوئے تھے اس لئے چھٹا مرید کہلائے ۔ یاد رہے کہ پروفیسر میکسمولر اپنے رسالہ نائن ٹینتھ سنچری اکتوبر ۱۸۹۴ ء صفحہ ۵۱۷ میں گذشتہ بالا مضمون کی ان الفاظ سے تائید کرتے ہیں کہ یہ خیال کئی دفعہ ہر دل عزیز مصنفوں نے پیش کیا ہے کہ مسیح پر بدھ مذہب کے اصولوں نے اثر ڈالا تھا اور پھر لکھتے ہیں کہ آج تک اس وقت کے حل کرنے کے لئے کوشش ہو رہی ہے کہ کوئی ایسا سچا تاریخی راستہ معلوم ہو جائے جس کے ذریعہ سے بدھ مذہب مسیح کے زمانہ میں فلسطین میں پہنچ سکا ہو اب اس عبارت سے بدھ مذہب کی ان کتابوں کی تصدیق ہوتی ہے جن میں لکھا ہے کہ لیسا بدھ کا مرید تھا کیونکہ جبکہ ایسے بڑے درجہ کے عیسائیوں نے جیسا کہ پروفیسر میکسمولر ہے پروفیسر میلسمولر ہیں اس بات کو مان لیا ہے کہ حضرت مسیح کے دل پر بدھ مذہب کے اصولوں کا ضرور اثر پڑا تھا تو دوسرے لفظوں میں اسی کا نام مرید ہونا ہے مگر ہم ایسے الفاظ کو حضرت مسیح دیکھو صفحہ ۱۶۹ و ۲۲۳ کتاب لهذا ۔ منه 1۔ Buddhism by Sir Monier William 2۔ The Ninteenth Century October 1894 by Max Muller