مسیح ہندوستان میں — Page 75
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۷۵ مسیح ہندوستان میں ایک کشفی رنگ میں ملاقات تھی۔ جو حضرت مسیح کی آنکھوں تک محدود تھی اور باتیں بھی الہامی رنگ ۷۳) میں تھیں ۔ یعنی شیطان نے جیسا کہ اس کا قدیم سے طریق ہے اپنے ارادوں کو وسوسوں کے رنگ میں حضرت مسیح کے دل میں ڈالا تھا مگر ان شیطانی الہامات کو حضرت مسیح کے دل نے قبول نہ کیا بلکہ بدھ کی طرح ان کو رد کیا۔ اب سوچنے کا مقام ہے کہ اس قدر مشابہت بدھ میں اور حضرت مسیح میں کیوں پیدا ہوئی۔ اس مقام میں آریہ تو کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح نے اس سفر کے وقت جبکہ ہندوستان کی طرف انہوں نے سفر کیا تھا بدھ مذہب کی باتوں کو سن کر اور بدھ کے ایسے واقعات پر اطلاع پا کر اور پھر واپس اپنے وطن میں جا کر اسی کے موافق انجیل بنالی تھی ۔ اور بدھ کے اخلاق میں سے چرا کر اخلاقی تعلیم لکھی تھی اور جیسا کہ بدھ نے اپنے تئیں نور کہا اور علم کہا اور دوسرے خطاب اپنے نفس کے لئے مقرر کئے وہی تمام خطاب مسیح نے اپنی طرف منسوب کر دیئے تھے۔ یہاں تک کہ وہ تمام قصہ بدھ کا جس میں وہ شیطان سے آزمایا گیا اپنا قصہ قرار دے دیا ۔ لیکن یہ آریوں کی غلطی اور خیانت ہے یہ بات ہر گز صحیح نہیں ہے کہ حضرت مسیح صلیب کے واقعہ سے پہلے ہندوستان کی طرف آئے تھے اور نہ اس وقت کوئی ضرورت اس سفر کی پیش آئی تھی بلکہ یہ ضرورت اس وقت پیش آئی جب کہ بلا د شام کے یہودیوں نے حضرت مسیح کو قبول نہ کیا اور ان کو اپنے زعم میں صلیب دے دیا جس سے خدائے تعالیٰ کی بار یک حکمت عملی نے حضرت مسیح کو بچا لیا۔ تب وہ اس ملک کے یہودیوں کے ساتھ حق تبلیغ اور ہمدردی ختم کر چکے اور باعث اس بدی کے ان یہودیوں کے دل ایسے سخت ہو گئے کہ وہ اس لائق نہ رہے کہ سچائی کو قبول کریں اس وقت حضرت مسیح نے خدائے تعالیٰ سے یہ اطلاع پا کر کہ یہودیوں کے دس گم شدہ فرقے ہندوستان کی طرف آگئے ہیں ان ملکوں کی طرف قصد کیا۔ اور چونکہ ایک گروہ یہودیوں کا بدھ مذہب میں داخل ہو چکا تھا