محمود کی آمین — Page 321
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۱۹ محمود کی آمین سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں مئے عرفان کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا (۳) کس سے اُس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں پھر جو سوچا تو ہر ایک لفظ مسیحا نکالا ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور ایسا چکا ہے کہ صد نیر بیضا نکلا زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل ائمی نکلا جلنے سے آگے ہی یہ لوگ تو جل جاتے ہیں جن کی ہر بات فقط جھوٹ کا پتلا نکلا محمود کی آمین بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نحمده ونصلى على رسوله الكريم حمد و ثنا اُسی کو جو ذات جاودانی ہمسر نہیں ہے اُس کا کوئی نہ کوئی ثانی باقی وہی ہمیشہ غیر اس کے سب ہیں فانی غیروں سے دل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی سب غیر ہیں وہی ہے اک دل کا یار جانی دل میں میرے یہی ہے سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي ہے پاک پاک قدرت عظمت ہے اسکی عظمت لرزاں ہیں اہل قربت کروبیوں پہ ہیبت ہے عام اُس کی رحمت کیونکر ہو شکر نعمت ہم سب ہیں اسکی صنعت اس سے کر و محبت غیروں سے کرنا الفت کب چاہے اُسکی غیرت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي جو کچھ ہمیں ہے راحت سب اُسکی جو دو منت اُس سے ہے دل کی بیعت دل میں ہے اسکی عظمت بہتر ہے اسکی طاعت طاعت میں ہے سعادت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي سب کا وہی سہارا رحمت ہے آشکارا ہم کو وہی پیارا دلبر وہی ہمارا اُس بن نہیں گذارا غیر اُس کے جھوٹ سارا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي