لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 292

روحانی خزائن جلد ۲۰ بھی ظاہر ہوئے۔ ۲۹۲ لیکچر لدھیانہ وہ نشانات جو میرے دعوی کے ساتھ مخصوص تھے اور جن کی قبل از وقت اور نبیوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ خبر دی گئی تھی وہ بھی پورے ہو گئے ۔ مثلاً اُن میں سے ایک کسوف خسوف کا ہی نشان ہے جو تم سب نے دیکھا۔ یہ سیح حدیث میں خبر دی گئی تھی کہ مہدی اور مسیح کے وقت میں رمضان کے مہینے میں سورج اور چاند گرہن ہوگا۔ اب بتاؤ کہ کیا یہ نشان پورا ہوا ہے یا نہیں ؟ کوئی ہے جو یہ کہے کہ اُس نے یہ نشان نہیں دیکھا ؟ اور ایسا ہی یہ بھی خبر دی گئی تھی کہ اُس زمانہ میں طاعون پھیلے گی ۔ یہاں تک شدید ہوگی کہ دس میں سے سات مر جاویں گے۔ اب بتاؤ کہ کیا طاعون کا نشان ظاہر ہوا یا نہیں ؟ پھر یہ بھی لکھا تھا کہ اُس وقت ایک نئی سواری ظاہر ہوگی جس سے اونٹ بریکار ہو جائیں گے۔ کیا ریل کے اجرا سے یہ نشان پورا نہیں ہوا؟ میں کہاں تک شمار کروں یہ بہت بڑا سلسلہ نشانات کا ہے ۔ اب غور کرو کہ میں تو دعویٰ کرنے والا دقبال اور کاذب قرار دیا گیا پھر یہ کیا غضب ہوا کہ مجھ کاذب کے لئے ہی یہ سارے نشان پورے ہو گئے ؟ اور پھر اگر کوئی آنے والا اور ہے تو اس کو کیا ملے گا؟ کچھ تو انصاف کرو اور خدا سے ڈرو۔ کیا خدا تعالیٰ کسی جھوٹے کی بھی ایسی تائید کیا کرتا ہے؟ عجیب بات ہے کہ جو میرے مقابلہ میں آیا وہ نا کام اور نا مرا در ہا اور مجھے جس آفت اور مصیبت میں مخالفین نے ڈالا میں اُس میں سے صحیح سلامت اور با مراد نکلا۔ پھر کوئی قسم کھا کر بتا دے کہ جھوٹوں کے ساتھ یہی معاملہ ہوا کرتا ہے؟ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان مخالف الرائے علماء کو کیا ہو گیا۔ وہ غور سے کیوں قرآن شریف اور احادیث کو نہیں پڑھتے ۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ جس قدرا کا بر امت کے گزرے ہیں وہ سب کے سب مسیح موعود کی آمد چودھویں صدی میں بتاتے رہے ہیں اور تمام اہل کشوف کے کشف یہاں آکر ٹھہر جاتے ہیں۔ حجج الکرامہ میں صاف لکھا ہے کہ چودھویں صدی سے آگے نہیں جائے گا۔ یہی لوگ منبروں پر چڑھ چڑھ کر بیان کیا کرتے تھے کہ تیرھویں صدی سے