لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 291

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۹۱ لیکچر لدھیانہ اُن کے منہ سے جھاگ گرنی شروع ہو جاتی ہے اور وہ گالیاں دینے لگتے ہیں۔ بھلا اس طرح پر بھی کوئی شخص حق کو پا سکتا ہے؟ میں تو قرآن شریف کے نصوص صریحہ کو پیش کرتا ہوں اور حدیث پیش کرتا ہوں، اجماع صحابہ پیش کرتا ہوں مگر وہ ہیں کہ ان باتوں کو سنتے نہیں اور کافر کافرد جال دجال کہہ کر شور مچاتے ہیں۔ میں صاف طور پر کہتا ہوں کہ قرآن شریف سے تم ثابت کرو کہ مسیح زندہ آسمان پر چلا گیا ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیت کے خلاف کوئی امر پیش کرو اور یا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر پہلا اجماع ہوا اس کا خلاف دکھاؤ تو جواب نہیں ملتا۔ پھر بعض لوگ شور مچاتے ہیں کہ اگر آنے والا وہی عیسی ابن مریم اسرائیلی نبی نہ تھا تو آنے والے کا یہ نام کیوں رکھا؟ میں کہتا ہوں کہ یہ اعتراض کیسی نادانی کا اعتراض ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اعتراض کرنے والے اپنے لڑکوں کا نام تو موسیٰ، عیسی، داؤد، احمد، ابراہیم، اسماعیل رکھ لینے کے مجاز ہوں اور اگر اللہ تعالیٰ کسی کا نام عیسی رکھ دے تو اس پر اعتراض !!! غور طلب بات تو اس مقام پر یہ تھی کہ آیا آنے والا اپنے ساتھ نشانات رکھتا ہے یا نہیں ؟ اگر وہ ان نشانات کو پاتے تو انکار کے لئے جرات نہ کرتے مگر انہوں نے نشانات اور تائیدات کی تو پروانہ کی اور دعویٰ سنتے ہی کہہ دیا۔ اَنْتَ كَافِرٌ۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور خدا تعالیٰ کے مامورین کی شناخت کا ذریعہ ان کے معجزات اور نشانات ہوتے ہیں جیسا کہ گورنمنٹ کی طرف سے کوئی شخص اگر حاکم مقرر کیا جاوے تو اس کو نشان دیا جاتا ہے۔ اسی طرح پر خدا کے مامورین کی شناخت کے لئے بھی نشانات ہوتے ہیں اور میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے میری تائید میں نہ ایک نہ دو نہ دو سو بلکہ لاکھوں نشانات ظاہر کئے ۔ اور وہ نشانات ایسے نہیں ہیں کہ کوئی انہیں جانتا نہیں بلکہ لاکھوں ان کے گواہ ہیں اور میں کہ سکتا ہوں کہ اس جلسہ میں بھی صدہا ان کے گواہ موجود ہوں گے۔ آسمان سے میرے لئے نشانات ظاہر ہوئے ہیں۔ زمین سے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” پر جو “ہونا چاہیے۔(ناشر)