لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 286

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۸۶ لیکچر لدھیانہ اور جو کچھ قرآن شریف میں ہے اُس کو چھوڑ کر نجات نہیں مل سکتی ۔ جو اس کو چھوڑے گا وہ جہنم میں جاوے گا۔ یہ ہمارا مذہب اور عقیدہ ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس امت کے لئے مخاطبات اور مکالمات کا دروازہ کھلا ہے اور یہ دروازہ گویا قرآن مجید کی سچائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر ہر وقت تازہ شہادت ہے اور اس کے لئے خدا تعالیٰ نے سورہ فاتحہ ہی میں یہ دعا سکھائی ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یا انعمت علیھم کی راہ کے لئے جو دعا سکھائی تو اس میں انبیاء علیہم السلام کے کمالات کے حصول کا اشارہ ہے اور یہ ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو جو کمال دیا گیا وہ معرفت الہی ہی کا کمال تھا۔ اور یہ نعمت ان کو مکالمات اور مخاطبات سے ملی تھی اسی کے تم بھی خواہاں رہو۔ پس اس نعمت کے لئے یہ خیال کرو کہ قرآن شریف اس دعا کی تو ہدایت کرتا ہے مگر اس کا ثمرہ کچھ بھی نہیں یا اس اُمت کے کسی فرد کو بھی یہ شرف نہیں مل سکتا۔ اور قیامت تک یہ دروازہ بند ہو گیا ہے۔ بتاؤ اس سے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ثابت ہوگی یا کوئی خوبی ثابت ہوگی ؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے وہ اسلام کو بدنام کرتا ہے اور اس نے مغز شریعت کو سمجھا ہی نہیں۔ اسلام کے مقاصد میں سے تو یہ امر تھا کہ انسان صرف زبان ہی سے وحدہ لاشریک نہ کہے بلکہ در حقیقت سمجھ لے اور بہشت دوزخ پر خیالی ایمان نہ ہو بلکہ فی الحقیقت اسی زندگی میں وہ بہشتی کیفیات پر اطلاع پالے اور ان گناہوں سے جن میں وحشی انسان مبتلا ہیں نجات پالے۔ یہ عظیم الشان مقصد اسلام کا تھا اور ہے اور یہ ایسا پاک مطہر مقصد ہے کہ کوئی دوسری قوم اس کی نظیر اپنے مذہب میں پیش نہیں کر سکتی اور نہ اس کا نمونہ دکھا سکتی ہے۔ کہنے کوتو ہر ایک کہ سکتا ہے مگر وہ کون ہے جو دکھا سکتا ہو؟ میں نے آریوں سے عیسائیوں سے پوچھا ہے کہ وہ خدا جو تم مانتے ہو اس کا کوئی ثبوت پیش کرو۔ نری زبانی لاف و گزاف سے بڑھ کر وہ کچھ بھی نہیں دکھا سکتے ۔ وہ سچا خدا الفاتحة : ٧٦