لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 285

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۸۵ لیکچر لدھیانہ وجہ سے ان میں قساوت قلبی بڑھ گئی اور وہ کینہ کش ہو گئے ۔ اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس بادشاہ کے زمانہ میں کوئی ہوتا ہے اُس کے اخلاق بھی اسی قسم کے ہو جاتے ہیں ۔ سکھوں کے زمانہ میں اکثر لوگ ڈاکو ہو گئے تھے۔ انگریزوں کے زمانہ میں تہذیب اور تعلیم پھیلتی جاتی ہے اور ہر شخص اس طرف کوشش کر رہا ہے۔ غرض بنی اسرائیل نے فرعون کی ماتحتی کی تھی اسی وجہ سے اُن میں ظلم بڑھ گیا تھا۔ اس لئے توریت کے زمانہ میں عدل کی ضرورت مقدم تھی کیونکہ وہ لوگ اس سے بے خبر تھے اور جابرانہ عادت رکھتے تھے۔ اور انہوں نے یقین کر لیا تھا کہ دانت کے بدلے دانت کا توڑ نا ضروری ہے اور یہ ہمارا فرض ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سکھایا کہ عدل تک ہی بات نہیں رہتی بلکہ احسان بھی ضروری ہے۔ اس سبب سے مسیح کے ذریعہ انہیں یہ تعلیم دی گئی کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دو ۔ اور جب اسی پر سارا زور دیا گیا تو آخر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اس تعلیم کو اصل نکتہ پر پہنچا دیا۔ اور وہ یہی تعلیم تھی کہ بدی کا بدلہ اس قدر بدی ہے لیکن جو شخص معاف کر دے اور معاف کرنے سے اصلاح ہوتی ہو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور اجر ہے۔ عضو کی تعلیم دی ہے مگر ساتھ قید لگائی کہ اصلاح ہو بے محل عفو نقصان پہنچاتا ہے۔ پس اس مقام پر غور کرنا چاہیے کہ جب توقع اصلاح کی ہو تو عفو ہی کرنا چاہیے جیسے دو خدمت گار ہوں ایک بڑا شریف الاصل اور فرمانبردار اور خیر خواہ ہولیکن اتفاقا اس سے کوئی غلطی ہو جاوے اس موقعہ پر اُس کو معاف کرنا ہی مناسب ہے۔ اگر سزا دی جاوے تو ٹھیک نہیں لیکن ایک بدمعاش اور شریر ہے ہر روز نقصان کرتا ہے اور شرارتوں سے باز نہیں آتا اگر اُسے چھوڑ دیا جاوے تو وہ اور بھی بے باک ہو جائے گا۔ اُس کو سزا ہی دینی چاہیے۔ غرض اس طرح پر محل اور موقع شناسی سے کام لو۔ ی تعلیم ہے جو اسلام نے دی ہے اور جو کامل تعلیم ہے اس کے بعد اور کوئی نئی تعلیم یا شریعت نہیں آسکتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں اور قرآن شریف خاتم الکتب ۔ اب کوئی اور کلمہ یا کوئی اور نماز نہیں ہو سکتی۔ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا کر کے دکھایا