لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 284 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 284

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۸۴ لیکچر لدھیانہ دیکھ رہا ہے یا کم از کم یہ کہ اللہ تعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے۔ اس مقام تک انسان میں ایک حجاب رہتا ہے لیکن اس کے بعد جو تیسرا درجہ ہے انسانی ذی القربی کا یعنی اللہ تعالٰی سے اُسے ذاتی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور حقوق العباد کے پہلو سے میں اس کے معنے پہلے بیان کر چکا ہوں ۔ اور یہ بھی میں نے بیان کیا ہے کہ یہ تعلیم جو قرآن شریف نے دی ہے کسی اور کتاب نے نہیں دی اور ایسی کامل ہے کہ کوئی نظیر اس کی پیش نہیں کر سکتا یعنی جَزَ وَا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا الآیتہ اس میں عفو کے لئے یہ شرط رکھی ہے کہ اس میں اصلاح ہو۔ یہودیوں کے مذہب نے تو یہ کیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت (الى الآخر) ان میں انتقامی قوت اس قدر بڑھ گئی تھی اور یہاں تک یہ عادت اُن میں پختہ ہو گئی تھی کہ اگر باپ نے بدلہ نہیں لیا تو بیٹے اور اُس کے پوتے تک کے فرائض میں یہ امر ہوتا تھا کہ وہ بدلہ لے۔ اس وجہ سے اُن میں کینه توزی کی عادت بڑھ گئی تھی ۔ اور وہ بہت سنگدل اور بے درد ہو چکے تھے ۔ عیسائیوں نے اس تعلیم کے مقابل یہ تعلیم دی کہ ایک گال پر کوئی طمانچہ مارے تو دوسری بھی پھیر دو۔ ایک کوس بیگار لے جاوے تو دوکوس چلے جاؤ۔ وغیرہ ۔ اس تعلیم میں جو نقص ہے وہ ظاہر ہے کہ اس پر عملدرآمد ہی نہیں ہو سکتا۔ اور عیسائی گورنمنوں نے عملی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ یہ تعلیم ناقص ہے۔ کیا یہ کسی عیسائی کی جرات ہو سکتی ہے کہ کوئی خبیث طمانچہ مار کر دانت نکال دے تو وہ دوسری گال پھیر دے کہ ہاں اب دوسرا دانت بھی نکال دو۔ وہ خبیث تو اور بھی دلیر ہو جاوے گا اور اس سے امن عامہ میں خلل واقع ہوگا پھر کیونکر ہم تسلیم کریں کہ یہ تعلیم عمدہ ہے یا خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہو سکتی ہے اگر اس پر عمل ہو تو کسی ملک کا بھی انتظام نہ ہو سکے ایک ملک ایک دشمن چھین لے تو دوسرا خود حوالہ کرنا پڑے۔ ایک افسر گرفتار ہو جاوے تو دس اور دے دیئے جاویں۔ یہ نقص ہیں جو ان تعلیموں میں ہیں۔ اور یہ میچ نہیں۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ یہ احکام بطور قانون مختص الزمان تھے۔ جب وہ زمانہ گزرگیا دوسرے لوگوں کے حسب حال وہ تعلیم نہ رہی۔ یہودیوں کا وہ زمانہ تھا کہ وہ چار سو برس تک غلامی میں رہے اور اس غلامی کی زندگی کی النحل : ٩١ الشورى : ام ہلا استثناء باب ۱۹ آیت ۲۱