لیکچر لدھیانہ — Page 283
روحانی خزائن جلد ۲۰ چنانچہ سعدی کہتا ہے۔ ۲۸۳ لیکچر لدھیانہ نکوئی با بدان کردن چنان است که بد کردن برائے نیک مرداں اس لئے اسلام نے انتقامی حدود میں جو اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی ہے کہ کوئی دوسرا مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور وہ یہ ہے ۔ جزو ا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ الآیة یعنی بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے اور جو معاف کر دے مگر ایسے محل اور مقام پر کہ وہ عفو اصلاح کا موجب ہو۔ اسلام نے عفو خطا کی تعلیم دی لیکن یہ نہیں کہ اس سے شر بڑھے۔ غرض عدل کے بعد دوسرا درجہ احسان کا ہے یعنی بغیر کسی معاوضہ کے سلوک کیا جاوے۔ لیکن اس سلوک میں بھی ایک قسم کی خود غرضی ہوتی ہے کسی نہ کسی وقت انسان اس احسان یا نیکی کو جتا دیتا ہے۔ اس لئے اس سے بھی بڑھ کر ایک تعلیم دی اور وہ اِيْتَايْ ذِي الْقُرْبى کا درجہ ہے۔ ماں جو اپنے بچہ کے ساتھ سلوک کرتی ہے وہ اُس سے کسی معاوضہ اور انعام واکرام کی خواہشمند نہیں ہوتی۔ وہ اس کے ساتھ جو نیکی کرتی ہے محض طبعی محبت سے کرتی ہے۔ اگر بادشاہ اس کو حکم دے کہ تو اس کو دودھ مت دے اور اگر یہ تیری غفلت سے مر بھی جاوے تو تجھے کوئی سزا نہیں دی جاوے گی بلکہ انعام دیا جاوے گا۔ اس صورت میں وہ بادشاہ کا حکم مانے کو طیار نہ ہوگی بلکہ اس کو گالیاں دے گی کہ یہ میری اولاد کا دشمن ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ ذاتی محبت سے کر رہی ہے۔ اُس کی کوئی غرض درمیان نہیں۔ یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے جو اسلام پیش کرتا ہے اور یہ آیت حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں پر حاوی ہے۔ حقوق اللہ کے پہلو کے لحاظ سے اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ انصاف کی رعایت سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہاری پرورش کرتا ہے اور جو اطاعت الہی میں اس مقام سے ترقی کرے تو احسان کی پابندی سے اطاعت کر کیونکہ وہ حسن ہے اور اس کے احسانات کو کوئی شمار نہیں کر سکتا اور چونکہ محسن کے شمائل اور خصائل کو مد نظر رکھنے سے اس کے احسان تازہ رہتے ہیں اس لئے احسان کا مفہوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ ایسے طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گویا الشوری: ۲۴۱ النحل : ۹۱