لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 279

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۷۹ لیکچرلدھیانہ تکذیب کے لئے ساری نبوتوں کو جھٹلاتے ہو؟ یا درکھو خدا کا نام غفور ہے پھر کیوں وہ رجوع کرنے والوں کو معاف نہ کرے؟ اس قسم کی غلطیاں ہیں جو قوم میں واقع ہوگئی ہیں۔ انہیں غلطیوئی سے جہاد کی غلطی بھی ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ جب میں کہتا ہوں کہ جہاد حرام ہے تو کالی پیلی آنکھیں نکال لیتے ہیں حالانکہ خود ہی مانتے ہیں کہ جو حدیثیں خونی مہدی کی ہیں وہ مخدوش ہیں۔ مولوی محمد حسین بٹالوی نے اس باب میں رسالے لکھے ہیں اور یہی مذہب میاں نذیر حسین دہلوی کا تھا۔ وہ ان کو قطعی صحیح نہیں سمجھتے ۔ پھر مجھے کیوں کا ذب کہا جاتا ہے؟ سچی بات یہی ہے کہ مسیح موعود اور مہدی کا کام یہی ہے کہ وہ لڑائیوں کے سلسلہ کو بند کرے گا اور قلم ، دعا ، توجہ سے اسلام کا بول بالا کرے گا اور افسوس ہے کہ لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی اس لئے کہ جس قدر توجہ دنیا کی طرف ہے دین کی طرف نہیں۔ دنیا کی آلودگیوں اور ناپاکیوں میں مبتلا ہو کر یہ امید کیونکر کر سکتے ہیں کہ اُن پر قرآن کریم کے معارف کھلیں ۔ وہاں تو صاف لکھا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ اس بات کو بھی دل سے سنو کہ میرے مبعوث ہونے کی علت غائی کیا ہے؟ میرے آنے کی غرض اور مقصود صرف اسلام کی تجدید اور تائید ہے۔ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ کوئی نئی شریعت سکھاؤں بانٹے احکام دوں یا کوئی نئی کتاب نازل ہوگی۔ ہر گز نہیں اگر کوئی شخص یہ خیال کرتا ہے۔ تو میرے نزدیک وہ سخت گمراہ اور بے دین ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر شریعت اور نبوت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اب کوئی شریعت نہیں آسکتی۔ قرآن مجید خاتم الکتب ہے۔ اس میں اب ایک شعشہ یا نقطہ کی کمی بیشی کی گنجائش نہیں ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے برکات اور فیوضات اور قرآن شریف کی تعلیم اور ہدایت کے ثمرات کا خاتمہ نہیں ہو گیا۔ وہ ہر زمانہ میں تازہ بتازہ موجود ہیں اور انہیں فیوضات اور برکات کے ثبوت کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا ہے۔ اسلام کی حالت جو اس وقت ہے وہ پوشیدہ نہیں بالاتفاق مان لیا گیا ہے کہ ہر قسم کی کمزوریوں اور تنزل کا نشانہ مسلمان ہورہے ہیں ہر پہلو سے حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ” غلطیوں میں سے “ہونا چاہیے۔(ناشر) الواقعة : ٨٠