لیکچر لدھیانہ — Page 277
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۷۷ لیکچرلدھیانہ قرآن کریم کو چھوڑتا ہے۔ اس لئے کہ قرآن شریف تو کہتا ہے يصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ افسوس ہے بہت سے لوگ مولوی کہلاتے ہیں مگر انہیں نہ قرآن کی خبر ہے نہ حدیث کی نہ سنت انبیاء کی۔ صرف بغض کی جھاگ ہوتی ہے۔ اس لئے وہ دھوکا دیتے ہیں۔ یاد رکھو الكريم اذا و عد وفی ۔ رحیم کا تقاضا یہی ہے کہ قابل سز اٹھہرا کر معاف کر دیتا ہے اور یہ تو انسان کی بھی فطرت میں ہے کہ وہ معاف کر دیتا ہے۔ ایک مرتبہ میرے سامنے ایک شخص نے بناوٹی شہادت دی۔ اس پر جرم ثابت تھا وہ مقدمہ ایک انگریز کے پاس تھا۔ اُسے اتفاقاً چٹھی آگئی کہ کسی دور دراز جگہ پر اس کی تبدیلی ہوگئی ہے۔ وہ غمگین ہوا۔ جو مجرم تھا وہ بوڑھا آدمی تھا۔ منشی سے کہا کہ یہ تو قید خانہ ہی میں مرجاوے گا۔ اُس نے بھی کہا کہ حضور بال بچہ دار ہے۔ اس پر وہ انگریز بولا کہ اب مثل مرتب ہو چکی ہے۔ اب ہو کیا سکتا ہے۔ پھر کہا کہ اچھا اس مثل کو چاک کر دو ۔ اب غور کرو کہ انگریز کو تو رحم آ سکتا ہے خدا کو نہیں آتا ؟ پھر اس بات پر بھی غور کرو کہ صدقہ اور خیرات کیوں جاری ہے اور ہر قوم میں اس کا رواج ہے۔ فطرتاً انسان مصیبت اور بلا کے وقت صدقہ دینا چاہتا ہے اور خیرات کرتا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ بکرے دو۔ کپڑے دو۔ یہ دو وہ دو۔ اگر اس کے ذریعہ سے رد بلا نہیں ہوتا تو پھر اضطراراً انسان کیوں ایسا کرتا ہے؟ نہیں رد بلا ہوتا ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر کے اتفاق سے یہ بات ثابت ہے۔ اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ صرف مسلمانوں ہی کا مذہب نہیں بلکہ یہودیوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کا بھی یہ مذہب ہے اور میری سمجھ میں روئے زمین پر کوئی اس امر کا منکر ہی نہیں جبکہ یہ بات ہے تو صاف کھل گیا کہ وہ ارادہ الہی ٹل جاتا ہے۔ پیشگوئی اور ارادہ الہی میں صرف یہ فرق ہوتا ہے کہ پیشگوئی کی اطلاع نبی کو دی جاتی ہے۔ اور ارادہ الہی پر کسی کو اطلاع نہیں ہوتی۔ اور وہ مخفی رہتا ہے۔ اگر وہی ارادہ الہی المؤمن : ٢٩