لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 275

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۷۵ لیکچر لدحسانہ حالانکہ وہ حق پر نہیں اور پھر کیسا تعجب اور افسوس ہوگا کہ اگر ہم حق پر ہو کر تلوار کا نام لیں۔ اس وقت تم کسی کو تلوار دکھا کر کہو کہ مسلمان ہو جاور نہ قتل کر دوں گا۔ پھر دیکھو نتیجہ کیا ہوگا وہ پولیس میں گرفتار کرا کے تلوار کا مزہ چکھا دے گا۔ یہ خیالات سراسر بیہودہ ہیں ان کو سروں سے نکال دینا چاہیے۔ اب وقت آیا ہے کہ اسلام کا روشن اور درخشاں چہرہ دکھایا جاوے۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ تمام اعتراضوں کو دور کر دیا جاوے اور جو اسلام کے نورانی چہرہ پر داغ لگایا گیا ہے اُسے دور کر کے دکھایا جاوے۔ میں یہ بھی افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے لئے جو موقعہ خدا تعالیٰ نے دیا ہے اور عیسائی مذہب کے اسلام میں داخل کرنے کے لئے جو راستہ کھولا گیا تھا اسے ہی بُری نظر سے دیکھا اور اس کا کفر کیا۔ میں نے اپنی تحریروں کے ذریعہ پورے طور پر اس طریق کو پیش کیا ہے جو اسلام کو کامیاب اور دوسرے مذاہب پر غالب کرنے والا ہے۔ میرے رسائل امریکہ اور یورپ میں جاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے اس قوم کو جو فراست دی ہے انہوں نے اس خدا داد فراست سے اس امر کو سمجھ لیا ہے لیکن جب ایک مسلمان کے سامنے میں اسے پیش کرتا ہوں تو اس کے منہ میں جھاگ آجاتی ہے گویا وہ دیوانہ ہے یا قتل کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ قرآن شریف کی تعلیم تو یہی تھی۔ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۔ یہ تعلیم اس لئے تھی کہ اگر دشمن بھی ہو تو وہ اس نرمی اور حسن سلوک سے دوست بن جاوے اور ان باتوں کو آرام اور سکون کے ساتھ سن لے۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اُس کی طرف سے ہوں ۔ وہ خوب جانتا ہے کہ میں مفتری نہیں، کذاب نہیں۔ اگر تم مجھے خدا تعالیٰ کی قسم پر بھی اور ان نشانات کو بھی جو اس نے میری تائید میں ظاہر کئے دیکھ کر مجھے کذاب اور مفتری کہتے ہو تو پھر میں تمہیں خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ کسی ایسے مفتری کی نظیر پیش کرو کہ باوجود اُس کے ہر روز افترا اور کذب کے جو وہ اللہ تعالیٰ پر کرے پھر اللہ تعالیٰ اس کی تائید اور نصرت کرتا جاوے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اُسے ہلاک کرے مگر حم السجدة : ۳۵