لیکچر لدھیانہ — Page 266
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۶۶ لیکچرلدھیانہ صلیبی مذہب پر موت وارد ہوگی اور ان کی کمریں ٹوٹ جاویں گی ۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اب عیسائی غلطیوں کے دور کرنے کے لئے اس سے بڑھ کر کیا سبب ہو سکتا ہے کہ مسیح کی وفات ثابت کی جاوے۔ اپنے گھروں میں اس امر پر غور کریں اور تنہائی میں بستروں پر لیٹ کر سوچیں۔ مخالفت کی حالت میں تو جوش آتا ہے۔ سعید الفطرت آدمی پھر سوچ لیتا ہے۔ دہلی میں جب میں نے تقریر کی تھی تو سعید الفطرت انسانوں نے تسلیم کر لیا اور وہیں بول اٹھے کہ بے شک حضرت عیسی کی پرستش کا ستون ان کی زندگی ہے جب تک یہ نہ ٹوٹے اسلام کے لئے دروازہ نہیں کھلتا بلکہ عیسائیت کو اس سے مدد ملتی ہے جو ان کی زندگی سے پیار کرتے ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہ دو گواہوں کے ذریعہ سے پھانسی مل جاتی ہے مگر یہاں اس قدر شواہد موجود ہیں اور وہ بدستو را انکار کرتے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ یعنى إلى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى : اور پھر حضرت مسیح کا اپنا اقرار اسی قرآن مجید میں موجود ہے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ اور توفی کے معنے موت بھی قرآن مجید ہی سے ثابت ہے کیونکہ یہی لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی آیا ہے جیسا کہ فرمایا وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فلما توقیتی کہا ہے جس کے معنی موت ہی ہیں اور ایسا ہی حضرت یوسف اور دوسرے لوگوں کے لئے بھی یہی لفظ آیا ہے پھر ایسی صورت میں اس کے کوئی اور معنے کیوں کر ہو سکتے ہیں؟ یہ بڑی زبردست شہادت مسیح کی وفات پر ہے۔ اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں حضرت عیسی کو مردوں میں دیکھا۔ حدیث معراج کا تو کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اسے کھول کر دیکھ لو کہ کیا اس میں حضرت عیسی کا ذکر مردوں کے ساتھ آیا ہے یا کسی اور رنگ میں۔ جیسے آپ نے حضرت ابراہیم اور موسیٰ اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کو دیکھا اُسی طرح حضرت عیسی کو دیکھا۔ اُن میں کوئی خصوصیت اور امتیاز نہ تھا۔ اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ حضرت موسیٰ ال عمران ۲۵۶ المائدة : ١١٨ ٣ يونس : ۴۷