لیکچر لدھیانہ — Page 255
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۵۵ لیکچرلدھیانہ جن کے دلوں میں خدا کا خوف نہیں اور جو گویا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے مرنا ہی نہیں ۔ وہ خدا تعالیٰ کے کلام میں تحریف کرتے ہیں بلکہ میں ان لوگوں کو مخاطب کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ مرنا ہے اور موت کے دروازے قریب ہورہے ہیں اس لئے کہ خدا سے ڈرنے والا ایسا گستاخ نہیں ہو سکتا۔ وہ غور کریں کہ کیا ۲۵ برس پیشتر ایسی پیشگوئی کرنا انسانی طاقت اور قیاس کا نتیجہ ہوسکتا ہے؟ پھر ایسی حالت میں کہ کوئی اسے جانتا بھی نہ ہو اور ساتھ ہی یہ پیشگوئی بھی ہو کہ لوگ مخالفت کریں گے مگر وہ نا مرا در ہیں کے مخالفوں کے نامر اور بنے اور اپنے بامراد ہو جانے کی پیشگوئی کرنا ایک خارق عادت امر ہے اگر اس کے ماننے میں کوئی شک ہے تو پھر نظیر پیش کرو۔ میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ حضرت آدم سے لے کر اس وقت تک کے کسی مفتری کی نظیر دو جس نے ۲۵ برس پیشتر اپنی گمنامی کی حالت میں ایسی پیشگوئیاں کی ہوں اور وہ یوں روز روشن کی طرح پوری ہوگئی ہوں۔ اگر کوئی شخص ایسی نظیر پیش کر دے تو یقین یا درکھو کہ یہ سارا سلسلہ اور کاروبار باطل ہو جائے گا مگر اللہ تعالیٰ کے کاروبار کو کون باطل کر سکتا ہے؟ یوں تکذیب کرنا اور بلا وجہ معقول انکار اور استہزا یہ حرام زادے کا کام ہے کوئی حلال زادہ ایسی جرات نہیں کر سکتا۔ میں اپنی سچائی کو اسی پر حصر کر سکتا ہوں اگر تم میں کوئی سلیم دل رکھتا ہو۔ خوب یادرکھو کہ یہ پیشگوئی کبھی رو نہیں ہوسکتی جب تک اس کی نظیر پیش نہ کی جاوے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ یہ پیشگوئی براہین احمدیہ میں موجود ہے جس کا ریویو مولوی ابوسعید نے لکھا ہے۔ اسی شہر میں مولوی محمد حسن اور منشی محمد عمر وغیرہ کے پاس ہوگی۔ اس کا نسخہ مکہ، مدینہ، بخارا تک پہنچا۔ گورنمنٹ کے پاس اس کی کاپی بھیجی گئی۔ ہندوؤں ، مسلمانوں، عیسائیوں، برہموؤں نے اسے پڑھا اور وہ کوئی گمنام کتاب نہیں بلکہ وہ شہرت یافتہ کتاب ہے کوئی پڑھا لکھا آدمی جو مذہبی مذاق رکھتا ہو اس سے بے خبر نہیں ہے۔ پھر اس کتاب میں یہ پیشگوئی لکھی ہوئی موجود ہے کہ ایک دنیا تیرے ساتھ ہو جائے گی ۔ دنیا میں تجھے شہرت دوں گا۔ تیرے مخالفوں کو نا مراد رکھوں گا۔ اب بتاؤ کہ کیا یہ کام کسی مفتری کا ہوسکتا