لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 249

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۴۹ لیکچر لدھیانہ gege۔ De De De بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ لیکچر لدھیانہ جو حضور علیہ السلام نے ۴ رنومبر ۱۹۰۵ء کو ہزاروں آدمیوں کی موجودگی میں دیا اول میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں جس نے مجھے یہ موقع دیا کہ میں پھر اس شہر میں تبلیغ کرنے کے لئے آؤں۔ میں اسی شہر میں ۱۴ برس کے بعد آیا ہوں۔ اور میں ایسے وقت اس شہر سے گیا تھا جبکہ میرے ساتھ چند آدمی تھے اور تکفیر تکذیب اور دجال کہنے کا بازار گرم تھا۔ اور میں لوگوں کی نظر میں اس انسان کی طرح تھا جو مطرود اور مخذول ہوتا ہے۔ اور ان لوگوں کے خیال میں تھا کہ تھوڑے ہی دنوں میں یہ جماعت مردود ہو کر منتشر ہو جائے گی اور اس سلسلہ کا نام نشان مٹ جائے گا چنانچہ اس غرض کے لئے بڑی بڑی کوششیں اور منصوبے کئے گئے اور ایک بڑی بھاری سازش میرے خلاف یہ کی گئی کہ مجھ اور میری جماعت پر کفر کا فتویٰ لکھا گیا اور سارے ہندوستان میں اس فتویٰ کو پھرایا گیا۔ میں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ سب سے اوّل مجھے پر کفر کا فتویٰ اسی شہر کے چند مولویوں نے دیا مگر میں دیکھتا ہوں اور آپ دیکھتے ہیں کہ وہ کافر کہنے والے موجود نہیں اور خدا تعالیٰ نے ا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ پیکچر سب سے پہلے الحکم کے استمبر تا۳۰ نومبر ۱۹۰۶ء کے شماروں میں شائع ہوا تھا۔( ناشر )