لیکچر لاہور — Page 197
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۹۵ لیکھر لاہور کی تھی کہ جب چھٹا ہزار ختم ہونے کو ہوگا تب وہ مسیح موعود ظاہر ہوگا سو قمری حساب کے رو سے چھٹا ہزار جو حضرت آدم کے ظہور کے وقت سے لیا جاتا ہے مدت ہوئی جو ختم ہو چکا ہے اور سٹمسی حساب کے رو سے چھٹاہزار ختم ہونے کو ہے ۔ ماسوا اس کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ہر ایک صدی کے سر پر ایک مجدد آئے گا جو دین کو تازہ کرے گا اور اب اس چودھویں صدی میں سے اکیس سال گزر ہی چکے ہیں اور بائیسواں گزر رہا ہے۔ اب کیا یہ اس بات کا نشان نہیں کہ وہ مجدد آ گیا۔ اور تیسری شرط یہ تھی کہ کیا خدا نے اس کی تائید بھی کی ہے یا نہیں۔ سو اس شرط کا مجھ میں پایا جانا بھی ظاہر ہے کیونکہ اس ملک کی ہر ایک قوم کے بعض دشمنوں نے مجھے نابود کرنا چاہا اور ناخنوں تک زور لگایا اور بہت کوششیں کیں لیکن وہ اپنی تمام کوششوں میں نا مرا در ہے۔ کسی قوم کو یہ فخر نصیب نہ ہوا کہ وہ کہہ سکے کہ ہم میں سے کسی نے اس شخص کے تباہ کرنے کے لئے کسی قسم کی کوششیں نہیں کی اور ان کی کوششوں ((۵۰) کے برخلاف خدا نے مجھے عزت دی اور ہزار ہا لوگوں کو میرے تابع کر دیا ۔ پس اگر یہ خدا کی تائید نہیں تھی تو اور کیا تھا۔ کس کو معلوم نہیں کہ سب قوموں نے اپنے اپنے طور پر زور لگائے کہ تا مجھے نابود کر دیں مگر میں اُن کی کوششوں سے نابود نہ ہو سکا بلکہ میں دن بدن بڑھتا گیا یہاں تک کہ دو لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہوگئی پس اگر خدا کا ایک پوشیدہ ہاتھ میرے ساتھ نہ ہوتا اور اگر میرا کاروبار محض انسانی منصو بہ ہوتا تو ان مختلف تیروں میں ساتھ نہ ہوتا بہ تو سے کسی تیر کا میں ضرور نشانہ بن جاتا اور کبھی کا تباہ ہوا ہوتا اور آج میری قبر کا بھی نشان نہ ہوتا کیونکہ جو خدا پر جھوٹ باندھتا ہے اُس کے مارنے کے لئے کئی راہیں نکل آتی ہیں۔ وجہ یہ کہ خدا خود اس کا دشمن ہوتا ہے مگر خدا نے ان لوگوں کے تمام منصوبوں سے مجھے بچا لیا جیسا کہ اُس نے چوبیس برس پہلے خبر دی تھی ۔ ماسوا اس کے یہ کیسی کھلی کھلی تائید ہے کہ خدا نے میری تنہائی اور گمنامی کے زمانہ میں کھلے لفظوں میں براہین احمدیہ میں مجھے خبر دیدی کہ میں تجھے مدد دوں گا اور ایک کثیر جماعت تیرے ساتھ کر دوں گا ۔ اور