لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 597

لیکچر لاہور — Page 196

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۹۴ لیکچر لاہور که مولوی صاحب مذکور آپ فوت ہو گئے اور اپنی موت سے میرے سچا ہونے کی گواہی دے گئے اور ہزار ہا ایسے لوگ ہیں کہ محض خوابوں کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے میرا سچا ہونا اُن پر ظاہر کر دیا غرض یہ نشان اس قدر کھلے کھلے ہیں کہ اگر ان کو یکجائی نظر سے دیکھا جائے تو انسان کو بجز ماننے کے بن نہیں پڑتا۔ اس زمانہ کے بعض مخالف یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر قرآن شریف سے یہ ثبوت ملے تو ہم مان لیں گے۔ میں اُن کے جواب میں کہتا ہوں کہ قرآن شریف میں میرے مسیح ہونے کے بارے میں کافی ثبوت ہے۔ جیسا کہ میں کسی قدر لکھ بھی چکا ہوں۔ ماسوا اس کے اس شرط کو پیش کرنا بھی صریح زبردستی اور حکومت ہے ۔ کسی شخص کے سچا ماننے کے لئے یہ ضروری نہیں تا کہ اس کی کھلی کھلی خبر کسی آسمانی کتاب میں موجود بھی ہے اگر یہ شرط ضروری ہے تو کسی نبی کی نبوت ثابت نہیں ہوگی ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کے دعوی نبوت پر سب سے پہلے زمانہ کی ضرورت دیکھی جاتی ہے۔ پھر یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ نبیوں کے مقرر کردہ وقت پر آیا ہے یا نہیں ۔ پھر یہ بھی سوچا جاتا ہے کہ خدا نے اُس کی تائید کی ہے یا نہیں ۔ پھر یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ دشمنوں نے جو اعتراض اٹھائے ہیں اُن اعتراضات کا پورا پورا جواب دیا گیا یا نہیں ۔ جب یہ تمام باتیں پوری ہو جائیں تو مان لیا جائے گا کہ وہ انسان سچا ہے ورنہ نہیں ۔ اب صاف ظاہر ہے کہ زمانہ اپنی زبان حال سے فریاد کر رہا ہے کہ اس وقت اسلامی تفرقہ کے دُور کرنے کے لئے اور بیرونی حملوں سے اسلام کو بچانے کے لئے اور دنیا میں گم شدہ روحانیت کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے بلاشبہ ایک آسمانی مصلح کی ضرورت ہے جو دوبارہ یقین بخش کر ایمان کی جڑھوں کو پانی دیوے۔ اور اس طرح پر بدی اور گناہ سے چھڑا کر نیکی اور راستی کی طرف رجوع دیوے۔ سوعین ضرورت کے وقت میں میرا آنا ایسا ظاہر ہے کہ میں خیال نہیں کر سکتا کہ بجز سخت متعصب کے کوئی اس سے انکار کر سکے۔ اور دوسری شرط یعنی یہ دیکھنا کہ نبیوں کے مقرر کردہ وقت پر آیا ہے یا نہیں۔ یہ شرط بھی میرے آنے پر پوری ہو گئی ہے کیونکہ نبیوں نے یہ پیشگوئی