لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 597

لیکچر لاہور — Page 186

روحانی خزائن جلد ۲۰ ΙΔΙ لیکچر لاہور کے لئے آیا ر ڈ کر دیا اور اُس کو جھوٹا قرار دیا۔ یہ سب علامتیں اس زمانہ میں جس میں ہم ہیں پوری ہو گئیں۔ عقلمند کے لئے یہ صاف اور روشن راہ ہے کہ ایسے وقت میں خدا نے مجھے مبعوث فرمایا جب کہ قرآن شریف کی لکھی ہوئی تمام علامتیں میرے ظہور کیلئے ظاہر ہو چکی ہیں۔ یہ تمام علامتیں جو مسیح موعود کے زمانہ کے بارہ میں ہیں اگر چہ حدیثوں میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن اس جگہ میں نے صرف قرآن شریف کو پیش کیا ہے۔ اور ایک اور علامت قرآن شریف نے مسیح موعود کے زمانہ کے لئے قرار دی ہے کہ ایک جگہ فرماتا ہے۔ اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ کے یعنی ایک دن خدا کا ایسا ہے جیسا تمہارا ہزار برس ہے ۔ پس چونکہ دن سات ہیں اس لئے اس آیت میں دنیا کی عمر سات ہزار برس قرار دی گئی ہے۔ لیکن یہ عمر اس آدم کے زمانہ سے ہے جس کی ہم اولاد ہیں۔ خدا کی کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دنیا تھی ۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ لوگ کون تھے اور کس قسم کے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ سات ہزار برس میں ۳۹) دنیا کا ایک دور ختم ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اور اس امر پر نشان قرار دینے کے لئے دنیا میں سات دن مقرر کئے گئے تاہر ایک دن ایک ہزار برس پر دلالت کرے ۔ ہمیں معلوم نہیں کہ دنیا پر اس طرح سے کتنے دور گزر چکے ہیں اور کتنے آدم اپنے اپنے وقت میں آچکے ہیں۔ چونکہ خدا قدیم سے خالق ہے اس لئے ہم مانتے اور ایمان لاتے ہیں کہ دنیا اپنی نوع کے اعتبار سے قدیم ہے لیکن اپنے شخص کے اعتبار سے قدیم نہیں ہے۔ افسوس کہ حضرات عیسائیاں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صرف چھ ہزار برس ہوئے کہ جب خدا نے دنیا کو پیدا کیا اور زمین و آسمان بنائے اور اس سے پہلے خدا ہمیشہ کے لئے معطل اور بے کار تھا اور از لی طور پر معطل چلا آتا تھا۔ یہ ایسا عقیدہ ہے کہ کوئی صاحب عقل اس کو قبول نہیں کرے گا مگر ہمارا عقیدہ جو قرآن شریف نے ہمیں سکھلایا ہے یہ ہے کہ خدا ہمیشہ سے خالق ہے اگر چاہے تو کروڑوں مرتبہ زمین و آسمان کو فنا کر کے پھر ایسے ہی بنا دے اور اُس نے ہمیں خبر دی ہے کہ وہ آدم جو پہلی امتوں کے بعد آیا جو ہم سب کا الحج: ۴۸