لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 597

لیکچر لاہور — Page 168

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۶۶ لیکچر لاہور اب میں کیا یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں حقیقت میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں ۔ رہی انجیل کی تعلیم سو میری رائے یہ ہے کہ تعلیم کامل وہ ہوتی ہے جو تمام انسانی قومی کی پرورش کرے نہ صرف یہ کہ محض ایک پہلو پر اپنا تمام زور ڈال دے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ کامل تعلیم میں نے قرآن شریف میں ہی پائی ہے۔ وہ ہر ایک امر میں حق اور حکمت کی رعایت رکھتا چلا جاتا ہے مثلا انجیل میں کہا گیا ہے کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دے مگر قرآن شریف ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ یہ حکم ہر حال اور ہرمحل میں نہیں بلکہ موقع اور محل دیکھنا چاہیے کہ کیا وہ صبر کو چاہتا ہے یا انتظام کو اور عفوکو چاہتا ہے یا سزا کو ۔ اب ظاہر ہے کہ یہی قرآنی تعلیم کامل ہے اور بغیر اس کی پابندی کے انسانی سلسلہ تباہ ہو جاتا ہے اور نظام دنیا بگڑ جاتا ہے۔ ایسا ہی انجیل میں کیا گیا ہے کہ تو شہوت کی نظر سے بیگانہ عورت کی طرف مت دیکھ مگر قرآن شریف میں ہے کہ نہ تو شہوت کی نظر سے اور نہ بغیر شہوت کے بیگا نہ عورتوں کو دیکھنے کی عادت کر کہ یہ سب تیرے لئے ٹھوکر کی جگہ ہے۔ چاہیے کہ ضرورتوں کے موقعہ پر تیری آنکھ بند کے قریب ہو اور دھندلی سی ہو اور کھلی کھلی نظر ڈالنے سے پر ہیز کر کہ یہی طریق پاک دلی کے محفوظ رکھنے کا ہے۔ اس زمانہ کے مخالف فرقے شاید اس حکم سے مخالفت کریں گے کیونکہ آزادی کا نیا نیا شوق ہے مگر تجربہ صاف بتلا رہا ہے کہ یہی حکم صحیح ہے۔ دوستو ! کھلی کھلی بے تکلفی اور نظر بازی کے کبھی نتیجے اچھے نہیں نکلتے مثلاً جس حالت میں ابھی ایک مرد نفسانی جذبات سے پاک نہیں اور نہ جوان عورت نفسانی جذبات سے پاک ہے تو اُن دونوں کو ملاقات اور نظر بازی اور آزادی کا موقعہ دینا گویا ان کو اپنے ہاتھ سے گڑھے میں ڈالنا ہے۔ ایسا ہی انجیل میں کہا گیا ہے کہ بغیر زنا کے طلاق درست نہیں مگر قرآن شریف جائز رکھتا ہے کہ جہاں مثلا خاوند اور عورت دونوں با ہم جانی دشمن ہو جائیں اور ایک کی جان دوسرے سے خطرہ میں ہو اور یا عورت نے زنا تو نہیں