لیکچر لاہور — Page 167
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۶۵ لیکچر لاہور خدائی نکالنا درست نہیں۔ بائبل میں بہت سے لوگوں کو خدا کے بیٹے کہا گیا ہے بلکہ بعض کو خدا بھی ۔ پھر مسیح کی تخصیص بے وجہ ہے ۔ اور اگر ایسا ہوتا بھی کہ کسی دوسرے کو اُن کتابوں میں بجز مسیح کے خدا یا خدا کے بیٹے کا لقب نہ دیا جاتا تب بھی ایسی تحریروں کو حقیقت پر حمل کرنا نا دانی تھا۔ کیونکہ خدا کے کلام میں ایسے استعارات بکثرت پائے جاتے ہیں مگر جس حالت میں بائیل کے رو سے خدا کا بیٹا کہلانے میں اور بھی مسیح کے شریک ہیں تو دوسرے شرکاء کو کیوں اس فضیلت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ غرض نجات کے لئے اس منصوبہ پر بھروسہ کرنا صحیح نہیں ہے۔ اور گناہ سے باز رہنے کو اس منصوبہ سے کوئی بھی تعلق نہیں پایا جاتا بلکہ دوسرے کی نجات کے لئے خود کشی کرنا خود گناہ ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ہر گز مسیح نے اپنی رضامندی سے صلیب کو منظور نہیں کیا بلکہ شریر یہودیوں نے جو چاہا اُس سے کیا اور مسیح نے صلیبی موت سے بچنے کے لئے باغ میں ساری رات دعا کی اور اُس کے آنسو جاری ہو گئے ۔ تب خدا نے باعث اس کے تقویٰ کے اُس کی دعا قبول کی اور اس کو صلیبی موت سے بچا لیا جیسا کہ خود انجیل میں بھی لکھا ہے۔ پس یہ کیسی تہمت ہے کہ مسیح نے اپنی رضا مندی سے خود کشی کی ۔ ماسوا اس کے عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ زید اپنے سر پر پتھر مارے اور بکر کی اس سے دردسر جاتی رہے۔ ہاں ہم قبول کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نبی تھے اور ان کامل بندوں میں سے تھے جن کو خدا نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا ہے لیکن وہ الفاظ جو ان کی نسبت یا دوسرے نبیوں کی نسبت جو کتابوں میں وارد ہیں اُن سے نہ ان کو اور نہ کسی اور نبی کو ہم خدا بنا سکتے ہیں ۔ میں ان امور میں خود صاحب تجربہ ہوں اور میری نسبت خدا تعالیٰ کی پاک وحی میں وہ اعزاز اور اگرام کے لفظ موجود ہیں کہ میں نے کسی انجیل میں حضرت مسیح کے بارے میں نہیں دیکھے۔