لیکچر لاہور — Page 166
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۶۴ لیکچر لاہور ۱۸ کہ گناہ کرنے کی علت جو قلت معرفت باری تعالیٰ ہے وہ تو سر پر موجود کھڑی ہے مگر معلول اس کا جوار تکاب گناہ کی حالت ہے وہ معدوم ہو گئی ہے۔ تجربہ ہزاروں گواہ پیش کرتا ہے کہ بجز معرفت کامل کے نہ کسی چیز کی محبت پیدا ہوسکتی ہے اور نہ کسی چیز کا خوف پیدا ہوتا ہے اور نہ اس کی قدر دانی ہوتی ہے۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کسی فعل یا ترک فعل کو یا تو خوف کی وجہ سے کرتا ہے اور یا محبت کی وجہ سے ۔ اور خوف اور محبت دونوں معرفت سے پیدا ہوتی ہیں ۔ پس جب معرفت نہیں تو نہ خوف ہے اور نہ محبت ہے۔ اے عزیز و اور پیارو! اس جگہ راستی کی حمایت اس بیان کے لئے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی معرفت کے بارے میں حضرات مسیحیوں کے ہاتھ میں کوئی امرصاف نہیں ہے ۔ وحی کے سلسلہ پر تو پہلے سے مہر لگ چکی ہے اور مسیح اور حواریوں کے بعد معجزات بھی بند ہو گئے ہیں۔ رہا عقلی طریق ۔ سو آدم زاد کو خدا بنانے میں وہ طریق بھی ہاتھ سے گیا اور اگر گذشته معجزات جو اب محض قصوں کے رنگ میں ہیں پیش کئے جائیں تو اول تو ہر ایک منکر کہہ سکتا ہے کہ خدا جانے ان کی اصل حقیقت کیا ہے اور کس قدر مبالغہ ہے کیونکہ کچھ شک نہیں کہ مبالغہ کرنا انجیل نویسوں کی عادت میں داخل تھا۔ چنانچہ ایک انجیل میں یہ فقرہ موجود ہے کہ مسیح نے اتنے کام کئے کہ اگر وہ لکھے جاتے تو دنیا میں سمانہ سکتے ۔ اب دیکھو کہ وہ کام بغیر لکھنے کے تو دنیا میں سما گئے لیکن لکھنے کی حالت میں وہ دنیا میں نہیں سمائیں گے۔ یہ کس قسم کا فلسفہ اور کس قسم کی منطق ہے۔ کیا کوئی سمجھ سکتا ہے؟ ماسوا اس کے حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات موسی نبی کے معجزات سے کچھ بڑھ کر نہیں ہیں ۔ اور ایلیا نبی کے نشانوں کا جب مسیح کے نشانوں سے مقابلہ کریں تو ایلیا کے معجزات کا پلہ بھاری معلوم ہوتا ہے ۔ پس اگر معجزات سے کوئی خدا بن سکتا ہے تو یہ سب بزرگ خدائی کے مستحق ہیں ۔ اور یہ بات کہ مسیح نے اپنے تئیں خدا کا بیٹا کہا ہے یا کسی اور کتاب میں اُس کو بیٹا کہا گیا ہے ایسی تحریروں سے اُس کی