لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 597

لیکچر لاہور — Page 165

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۶۳ لیکچر لاہور اب ہم اس ملک کے چند مذاہب پر نظر کرتے ہیں کہ کیا وہ خدا تعالیٰ کی معرفت کے بارے 12 میں یقین کامل تک پہنچا سکتے ہیں اور کیا اُن کی کتابوں میں یہ وعدہ موجود ہے کہ وہ خدا کے یقینی مکالمہ سے شرف حاصل کر سکتے ہیں؟ اور اگر موجود ہے تو کیا اس زمانہ میں اُن میں سے کوئی اس کا مصداق پایا بھی جاتا ہے؟ یا نہیں ۔ سوسب سے پہلے قابل ذکر وہ مذہب ہے جو مسیحی مذہب کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ پس واضح ہو کہ اس مذہب کے بارے میں ہمیں زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ مسیحی صاحبوں کا اس پر اتفاق ہو چکا ہے کہ مسیح کے زمانہ کے بعد الہام اور وحی پر مہر لگ گئی ہے۔ اور اب یہ نعمت آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔ اور اب اس کے پانے کی کوئی بھی راہ نہیں اور قیامت تک نومیدی ہے اور فیض کا دروازہ بند ہے اور شاید یہی وجہ ہوگی کہ نجات پانے کے لئے ایک نئی تجویز نکالی گئی ہے اور ایک نیا نسخہ تجویز کیا گیا ہے جو تمام جہان کے اصول سے نرالا اور سراسر عقل اور انصاف اور رحم سے مخالف ہے اور وہ یہ ہے کہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے تمام جہان کے گناہ اپنے ذمہ لے کر صلیب پر مرنا منظور کیا تا اُن کی اس موت سے دوسروں کی رہائی ہو۔ اور خدا نے اپنے بے گناہ بیٹے کو مارا تا گنہ گاروں کو بچاوے لیکن ہمیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قسم کی مظلومانہ موت سے دوسروں کے دل گناہ کی پلید خصلت سے کیونکر صاف اور پاک ہو سکتے ہیں اور کیونکر ایک بے گناہ کے قتل ہونے سے دوسروں کو گذشتہ گناہوں کی معافی کی سند مل سکتی ہے بلکہ اس طریق میں انصاف اور رحم دونوں کا خون ہے کیونکہ گناہ گار کے عوض میں بے گناہ کو پکڑنا خلاف انصاف ہے اور نیز بیٹے کو اس طرح ناحق سخت دلی سے قتل کرنا خلاف رحم ہے ۔ اور اس حرکت سے فائدہ خاک نہیں اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ اصل سبب گناہ کے سیلاب کا قلت معرفت ہے۔ پس جب تک ایک علت موجود ہے تب تک معلول کی نفی کیونکر ہو سکتی ہے۔ ہمیشہ علت کا وجود معلول کے وجود کو چاہتا ہے۔ اب جائے حیرت ہے کہ یہ کیسا فلسفہ ہے