لیکچر لاہور — Page 155
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۵۳ لیکھر لاہور نہیں کہہ سکتے کہ اُس سے کوئی زیادہ ظاہر ہے۔ وہ زندہ ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے اے ساتھ زندہ ہے۔ وہ قائم ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے ساتھ قائم ہے۔ اُس نے ہر یک چیز کو اُٹھا رکھا ہے اور کوئی چیز نہیں جس نے اُس کو اُٹھا رکھا ہو۔ کوئی چیز نہیں جو اس کے بغیر خود بخود پیدا ہوئی ہے یا اس کے بغیر خود بخود جی سکتی ہے۔ وہ ہر یک چیز پر محیط ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ کیسا احاطہ ہے ۔ وہ آسمان اور زمین کی ہر یک چیز کا نور ہے اور ہر یک نور اسی کے ہاتھ سے چپکا ۔ اور اُسی کی ذات کا پر توہ ہے۔ وہ تمام عالموں کا پروردگار ہے۔ کوئی روح نہیں جو اس سے پرورش نہ پاتی ہو اور خود بخود ہو ۔ کسی روح کی کوئی قوت نہیں جو اس سے نہ ملی ہو اور خود بخود ہو۔ اور اُس کی رحمتیں دو قسم کی ہیں (۱) ایک وہ جو بغیر سبقت عمل کسی عامل کے قدیم سے ظہور پذیر ہیں جیسا کہ زمین اور آسمان اور سورج اور چاند اور ستارے اور پانی اور آگ اور ہوا اور تمام ذرات اس عالم کے جو ہمارے آرام کے لئے بنائے گئے ۔ ایسا ہی جن جن چیزوں کی ہمیں ضرورت تھی وہ تمام چیزیں ہماری پیدائش سے پہلے ہی ہمارے لئے مہیا کی گئیں اور یہ سب اُس وقت کیا گیا جبکہ ہم خود موجود نہ تھے۔ نہ ہمارا کوئی عمل تھا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ سورج میرے عمل کی وجہ سے پیدا کیا گیا یا زمین میرے کسی شدہ کرم کے سبب سے بنائی گئی ۔ غرض یہ وہ رحمت ہے جو انسان اور اس کے عملوں سے پہلے ظاہر ہو چکی ہے جو کسی کے عمل کا نتیجہ نہیں (۲) دوسری رحمت وہ ہے جو اعمال پر مترتب ہوتی ہے اور اس کی تصریح کی کچھ ضرورت نہیں۔ ایسا ہی قرآن شریف میں وارد ہے کہ خدا کی ذات ہر یک عیب سے پاک ہے اور ہر ایک نقصان سے مبرا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انسان بھی اس کی تعلیم کی پیروی کر کے عیبوں سے پاک ہو ۔ اور وہ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمى لا یعنی جو شخص اس دنیا میں اندھا رہے گا اور اُس ذات بیچوں کا اس کو دیدار نہیں ہوگا ۔ وہ مرنے کے بعد بھی اندھا ہی ہوگا اور تاریکی اس سے جدا نہیں ہوگی کیونکہ خدا کے دیکھنے کے لئے اسی دنیا میں حواس ملتے ہیں اور جو شخص ان حواس کو دنیا سے ساتھ بنی اسرائیل : ۷۳