لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 597

لیکچر لاہور — Page 150

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۴۸ لیکھر لاہور فرق کر سکتا ہے وہ قریباً بہت سے دلوں میں سے جاتا رہا ہے۔ اور دنیا ایک دہریت کا رنگ پکڑتی جاتی ہے یعنی زبانوں پر تو خدا اور پر میشر ہے اور دلوں میں ناستک مت کے خیالات بڑھتے جاتے ہیں۔ اس بات پر یہ امر گواہ ہے کہ عملی حالتیں جیسا کہ چاہیے درست نہیں ہیں ۔ سب کچھ زبان سے کہا جاتا ہے مگر عمل کے رنگ میں دکھلایا نہیں جاتا۔ اگر کوئی پوشیدہ راستباز ہے تو میں اُس پر کوئی حملہ نہیں کرتا مگر عام حالتیں جو ثابت ہو رہی ہیں وہ یہی ہیں کہ جس غرض کے لئے مذہب کو انسان کے لازم حال کیا گیا ہے وہ غرض مفقود ہے دل کی حقیقی پاکیزگی اور خدا تعالیٰ کی سچی محبت اور اس کی مخلوق کی سچی ہمدردی اور حلم اور رحم اور انصاف اور فروتنی اور دوسرے تمام پاک اخلاق اور تقویٰ اور طہارت اور راستی جو ایک روح مذہب کی ہے اُس کی طرف اکثر انسانوں کو توجہ نہیں ۔ مقام افسوس ہے کہ دنیا میں مذہبی رنگ میں تو جنگ و جدل روز بروز بڑھتے جاتے ہیں مگر روحانیت کم ہوتی جاتی ہے۔ مذہب کی اصلی غرض اُس بچے خدا کا پہچاننا ہے جس نے اس تمام عالم کو پیدا کیا ہے اور اُس کی محبت میں اُس مقام تک پہنچنا ہے جو غیر کی محبت کو جلا دیتا ہے اور اس کی مخلوق سے ہمدردی کرنا ہے اور حقیقی پاکیزگی کا جامہ پہننا ہے۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ یہ غرض اس زمانہ میں بالائے طاق ہے اور اکثر لوگ دہریہ مذہب کی کسی شاخ کو اپنے ہاتھ میں لئے بیٹھے ہیں اور خدا تعالیٰ کی شناخت بہت کم ہو گئی ہے اسی وجہ سے زمین پر دن بدن گناہ کرنے کی دلیری بڑھتی جاتی ہے کیونکہ یہ بد یہی بات ہے کہ جس چیز کی شناخت نہ ہو نہ اس کا قدر دل میں ہوتا ہے اور نہ اس کی محبت ہوتی ہے اور نہ اس کا خوف ہوتا ہے تمام اقسام خوف اور محبت اور قدردانی کے شناخت کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ آج کل دنیا میں گناہ کی کثرت بوجہ کی معرفت ہے۔ اور بچے مذہب کی نشانیوں میں سے یہ ایک عظیم الشان نشانی ہے کہ خدا تعالیٰ کی معرفت اور اس کی پہچان کے وسائل بہت سے اس میں موجود ہوں تا انسان گناہ سے رک سکے اور تا وہ خدا تعالیٰ کے