کتاب البریہ — Page 54
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۴ كتاب البرية اور آسمانی نشانوں کی شہادت کا یہ حال ہے کہ اگر تمام پادری مسیح مسیح کرتے مر بھی جائیں تا ہم ان کو آسمان سے کوئی نشان مل نہیں سکتا۔ کیونکہ مسیح خدا ہو تو ان کو نشان دے۔ وہ تو بے چارہ اور عاجز اور ان کی فریاد سے بے خبر ہے۔ اور اگر خبر بھی ہو تو کیا کر سکتا ہے۔ دنیا میں ایسا مذ ہب اور ان صفات کا جامع صرف اسلام ہے۔ ہر ایک مذہب کی خداشناسی کے اگر زوائد نکال دیئے جائیں اور مخلوق پرستی کا حصہ الگ کر دیا جائے تو جو باقی رہے گا وہی تو حید اسلامی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی تو حید سب کی مانی منائی ہے۔ پس ایسے لوگ کس قدر اپنے تئیں خطرہ میں ڈالتے ہیں کہ ایک امر کو جو مسلم الکل ہے قبول نہیں کرتے اور ایسے عقیدوں کی پیروی کرتے ہیں کہ جو محض ان کے اپنے دعوے ہیں اور (۳۳) عام قبولیت سے خالی ہیں۔ اگر قیامت کے دن حضرت مسیح نے کہہ دیا کہ میں تو خدا نہیں تھا تم نے کیوں خواہ نخواہ میرے ذمہ خدائی لگا دی تو پھر کہاں جائیں گے اور کس کے پاس جا کر روئیں گے!!؟ خدا تعالیٰ نے عیسائیوں کو ملزم کرنے کے لئے چار گواہ ان کے ابطال پر کھڑے کئے ہیں۔ اوّل یہودی کہ جو تخمینا ساڑھے تین ہزار برس سے گواہی دے رہے ہیں کہ ہمیں ہرگز ہرگز تثلیث کی تعلیم نہیں ملی اور نہ کوئی ایسی پیشگوئی کسی نبی نے کی کہ کوئی خدایا حقیقی طور پر ابن اللہ زمین پر ظاہر ہونے والا ہے۔ دوم حضرت بیٹی کی اُمت یعنی یوتا کی امت جواب تک بلا دشام میں موجود ہے جو حضرت مسیح کو اپنی قدیم تعلیم کے رو سے صرف انسان اور نبی اور حضرت بیٹی کا شاگرد جانتے ہیں۔ تیسرے فرقہ موحدہ عیسائیوں کا جن کا بار بار قرآن شریف میں بھی ذکر ہے جن کی بحث روم کے تیسری صدی کے قیصر نے تثلیث والوں سے کرائی تھی اور فرقہ موحد ہ غالب رہا تھا اور اسی وجہ سے قیصر نے فرقہ موحد کا مذہب اختیار کر لیا تھا۔ چوتھے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف جنہوں نے گواہی دی کہ مسیح ابن مریم ہرگز خدا نہیں ہے اور نہ خدا کا بیٹا ہے بلکہ خدا کا نبی ہے۔ اور علاوہ اس کے ہزاروں راستباز خدا تعالیٰ کا الہام پا کر اب تک گواہی دیتے چلے