کتاب البریہ — Page 31
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۱ کتاب البرية کی آنکھ دی جاتی تو اس سے وہ بڑا دینی فائدہ حاصل کر سکتا تھا بھلا ہم محمد حسین اور اس کے ہم خیال لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ یہ تمام غیبی افعال جو میری تائید میں اور میری عزت کی حفاظت کے لئے اور میرے اعداء کو شرمندہ کرنے کے لئے ظہور میں آئے یہ کس کے افعال تھے ؟ آیا خدا کے یا انسان کے؟ اور تشریح اس کی یہ ہے کہ پہلے یہ غیبی فعل ظہور میں آیا کہ میری گرفتاری میں تو قف ڈال دی گئی اور امرتسر کا وہ وارنٹ جس کے ساتھ چالیس ہزار روپیہ کی ضمانت کا حکم اور بہنیں ہزار کا ۲۰۰۰۰ مچلکہ تھا ایک حیرت افزا طریق سے روک دیا گیا۔ یہ وارنٹ امرتسر کے مجسٹریٹ درجہ اول کی عدالت سے یکم اگست ۱۸۹۷ء کو جاری ہوا تھا مگرے /اگست ۱۸۹۷ء تک گورداسپورہ میں پہنچ نہ سکا اور کچھ پتہ نہ لگا کہ کہاں گیا اور آخر کم امتناعی پہنچا کہ وارنٹ کی تعمیل روک دی جائے کیونکہ مجسٹریٹ کو معلوم ہوا کہ وہ غیر ضلع کے ملزم پر وارنٹ جاری کرنے کا قانونا مجاز نہیں ہے۔ یہ تو پہلا غیبی فعل تھا جو میری تائید کے لئے ظہور میں آیا۔ پھر دوسرا غیبی فعل یہ تھا کہ جب مثل منتقل ہو کر گورداسپورہ میں آئی تو باوجود یکہ امرتسر کے مجسٹریٹ نے وارنٹ جاری کیا تھا مگر صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپورہ نے باوجود ڈاکٹر کلارک اور اُس کے وکیل کے بہت اصرار اور ہاتھ پیر مارنے کے بجائے وارنٹ سمن جاری کر دیا اور وارنٹ سے انکار کیا۔ اور پھر تیسرا غیبی فعل یہ تھا کہ محمد حسین وغیرہ مخالفوں نے چاہا تھا کہ میری ذلت کی حالت دیکھیں مگر ان کو میری عزت کی حالت دکھائی گئی۔ میں نے اپنی جماعت کے بعض لوگوں سے سنا ہے کہ ایک شریر مخالف کچہری کے وقت ایک شخص سے میرا نام لے کر باتیں کرتا تھا کہ آج وہ شخص پولیس کی حراست میں ہے اور ہتھکڑی ہاتھ میں پڑی ہوئی ہے اس نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا اس لئے یہ سزا ملی۔ تب دوسرے شخص نے جس سے وہ باتیں کرتا تھا اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو اس موقعہ پر کھڑا کیا جہاں صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپورہ عدالت کی