کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 630

کتاب البریہ — Page 30

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۰ کتاب البرية کا نہ ہو۔ اور وہ ذلت پہنچی کہ مجھے تمام عمر میں اس کی نظیر یاد نہیں۔ پس بے چارہ غریب اور خاموش اور ترساں اور لرزاں ہو کر پیچھے ہٹ گیا اور سیدھا کھڑا ہو گیا اور پہلے میز کی طرف جھکا ہوا تھا۔ تب فی الفور مجھے خدا تعالیٰ کا یہ الہام یاد آیا کہ اِنّى مُهِينٌ مَن اَرَادَ اهانتکگ یعنی میں اس کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلت چاہتا ہے۔ یہ خدا کے منہ کی باتیں ہیں ۔ مبارک وہ جوان پر غور کرتے ہیں۔ خیال کرنا چاہیے کہ محمد حسین اس وقت اس خوشی سے بھرا ہوا کچہری میں آیا تھا کہ میں اس شخص کو گرفتار اور ہاتھ میں ہتھکڑی اور ذلیل جگہ جوتوں میں بیٹھا ہوا دیکھوں گا۔ تب میرا جی خوش ہوگا اور اپنے نفس کو کہوں گا کہ اے نفس تجھے مبارک ہو کہ تو نے آج اپنے مخالف کو ایسی حالت میں دیکھا۔ لیکن اس بد قسمت کے ایسے طالع کہاں تھے کہ یہ خوشی کا دن دیکھے سو آخر اس بدنصیب نے دیکھا تو یہ دیکھا کہ کچہری کے اندر قدم ڈالتے ہی مجھے صاحب ڈپٹی کمشنر کے پاس عزت کے ساتھ کرسی پر بیٹھا ہوا پایا۔ ایسے دل آزار مشاہدہ نے اس کے نفس کو بے بس کر دیا اور اپنے حریف کو ایسی عزت کی حالت میں دیکھ کر اس کا نفس امارہ حاسدانہ جوش میں آیا اور جاہ طلبی کا جوش بھڑ کا اور بے اختیار ہو کر بول اٹھا کہ مجھے کرسی ملنی چاہیے۔ تب جو حالت اس کی ہوئی سو ہوئی۔ یہ تمام سزا اس بداندیشی کی تھی جو اس نے میری نسبت کی۔ گندم از گندم بروید جو ز جو از مکافات عمل غافل مشو نادان نے یہ خیال نہ کیا کہ اگر میں مظلوم ہو کر اس کی خواہش کے موافق بذریعہ وارنٹ گرفتار کیا جاتا اور ہتھکڑی ڈالی جاتی اور ذلیل جگہ میں بٹھایا جاتا اور جیسا کہ اس کی تمنا تھی پھانسی دیا جاتا یا جبس دوام کی سزا پا تا تو میرا اس میں کیا حرج تھا۔ خدا کی راہ میں ہر ایک ذلت اور موت فخر کی جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اس دنیا کے جاہ وجلال کو نہیں چاہتا۔ لیکن اس نے دشمنوں کے ارادوں اور خواہشوں پر نظر ڈال کر مجھے اس ذلت اور ذلت کی موت (۱۳) سے بچالیا۔ یہ اس کا کام ہے اس نے جو کچھ کیا اپنی مرضی سے کیا۔ محمد حسین کو اگر بصیرت