کتاب البریہ — Page 23
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۳ کتاب البرية تھا اور اسی رفع مسیح سے خدا تعالیٰ نے یہودیوں اور عیسائیوں کے اس جھگڑے کا فیصلہ کیا جو صدہا (0) اور با برس سے ان کے درمیان چلا آتا تھا یعنی یہ کہ حضرت عیسی مردودوں اور ملعونوں سے نہیں ہیں اور نہ کفار میں سے جن کا رفع نہیں ہوتا بلکہ وہ بچے نبی ہیں اور در حقیقت ان کا رفع روحانی ہوا ہے جیسا کہ دوسرے نبیوں کا ہوا۔ یہی جھگڑا تھا اور رفع جسمانی کی نسبت کوئی جھگڑا نہ تھا بلکہ وہ غیر متعلق بات تھی جس پر کذب اور صدق کا مدار نہ تھا۔ بات یہ ہے کہ یہود یہ چاہتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب کا الزام دے کر ملعون ٹھہر اویں یعنی ایسا شخص جس کا مرنے کے بعد خدا کی طرف روحانی رفع نہیں ہوتا اور نجات سے جو قرب الہی پر موقوف ہے بے نصیب رہتا ہے۔ سوخدا نے اس جھگڑے کو یوں فیصلہ کیا کہ یہ گواہی دی کہ وہ صلیبی موت جو روحانی رفع سے مانع ہے حضرت مسیح پر ہرگز وارد نہیں ہوئی اور ان کا وفات کے بعد رفع الی اللہ ہو گیا ہے۔ اور وہ قرب الہی پا کر کامل نجات کو پہنچ گیا۔ کیونکہ جس کیفیت کا نام نجات ہے اس کا دوسرے لفظوں میں نام رفع ہے اسی کی طرف ان آیات میں اشارہ ہے کہ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ افسوس کہ ہمارے کج فہم علماء پر کہاں تک غباوت اور بلادت وارد ہوگئی ہے کہ وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ قرآن نے اگر اس آیت میں کہ اِنّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى - رفع جسمانی صفحہ ۲۶۲ میں یہ لکھتے ہیں وجب نزوله في آخر الزمان بتعلقه ببدن آخر ، یعنی عیسی نازل تو ہوگا مگر ان معنوں سے کہ دوسرے بدن کے ساتھ اس کا تعلق ہوگا یعنی بطور بروز اس کا نزول ہو گا جیسا کہ صوفیاء کرام کا مذہب ہے۔ پھر اسی صفحہ میں لکھتے ہیں''رفع عیسی علیه السّلام باتصال روحه عند المفارقة عن العالم السفلى بالعالم العلوى “۔ یعنی میسی کے رفع کے یہ معنی ہیں کہ جب عالم سفلی سے اس کی روح خدا ہوئی تو عالم بالا سے اس کا اتصال ہو گیا۔ پھر صفحہ ۱۷۸ میں لکھتے ہیں کہ رفع کے یہ معنی ہیں کہ عیسی کی روح اس کے قبض کرنے کے بعد روحوں کے آسمان میں پہنچائی گئی ۔ فتدبر ۔ منه بقیه حاشیه النساء : ۱۵۸ ۲ النساء :۱۵۹ ال عمران : ۵۶