کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 630

کتاب البریہ — Page 13

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۳ کتاب البرية لگائے جو اُس کی مسلم کتابوں یا نبیوں پر بھی عائد ہوتا ہے ۔ اور جو شخص اس ہدایت کی خلاف ورزی کرے اس کے لئے کوئی سزا مقرر ہو۔ بے شک بغیر اس تدبیر کے مذہبی فتنوں کا زہریلا بیج بکلی دور نہیں ہوسکتا۔ میں افسوس سے لکھتا ہوں کہ ڈاکٹر کلارک نے میری بعض مذہبی تحریریں پیش کر کے عدالت میں یہ خلاف واقعہ بیان کیا ہے کہ یہ سخت لفظ خود بخود ان کی نسبت کہے گئے ہیں ۔ میں حکام کو یقین دلاتا ہوں کہ ہرگز یہ میری عادت میں داخل نہیں کہ خود بخود کسی کو آزار دوں اور نہ ایسی عادت کو میں پسند کرتا ہوں۔ بلکہ جو کچھ سخت الفاظ میں لکھا گیا وہ سخت الفاظ کا جواب تھا۔ مگر مخالفوں کی سختی سے نہایت کم ۔ تاہم یہ طریق بھی میری طبیعت اور عادت سے مخالف ہے۔ اور جیسا کہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے مقدمہ کے فیصلہ پر مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ آئندہ اشتعال کو روکنے کے لئے مباحثات میں نرم اور مناسب الفاظ کو استعمال کیا جائے میں اسی پر کار بند رہنا چاہتا ہوں اور اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنے تمام مریدوں کو جو پنجاب اور ہندوستان کے مختلف مقامات میں سکونت رکھتے ہوں نہایت تاکید سے سمجھاتا ہوں کہ وہ بھی اپنے مباحثات میں اس طرز کے کار بند رہیں ۔ اور ہر ایک سخت اور فتنہ انگیز لفظ سے پر ہیز کریں۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے اس سے شرائط بیعت کی دفعہ چہارم میں سمجھایا ہے سرکار انگریزی کی سچی خیر خواہی اور بنی نوع کی سچی ہمدردی کریں اور اشتعال دینے والے طریقوں سے اجتناب رکھیں اور پر ہیز گار اور صالح اور بے شر انسان بن کر پاک زندگی کا نمونہ دکھلائیں ۔ اور اگر کوئی ان میں سے ان وصیتوں پر کار بند نہ ہو یا بے جا جوش اور وحشیانہ حرکت اور بد زبانی سے کام لے تو اس کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ان صورتوں میں ہماری جماعت کے سلسلہ سے باہر متصور ہوگا اور مجھ سے اس کا کوئی تعلق باقی نہیں رہے گا۔ دیکھو! آج میں کھلے کھلے لفظوں سے آپ