کتاب البریہ — Page xliv
ٹائیٹل بیچ کی عبارت شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنِ بماه جنوری ۱۸۹۸ء ☆ ۔ نے الهام - اليس الله بكاف عبده۔ فبراه الله مما قالوا و كان عند الله وجيها۔ والله موهن كيد الكافرين۔ ولنجعله آية للناس ورحمة منا وكان امرًا مقضيا ۔ صفحہ ۵۱۶ براہین احمدیہ ۔ کیا یہ ثابت نہیں ہوا کہ اپنے بندے کو خدا کافی ہے؟ خدا نے اس کو اس الزام سے بری کیا جو اس پر لگایا گیا تھا اور خدا نے یہی کرنا تھا کہ وہ کافروں کے منصوبہ کوست اور بے اثر کر دیتا۔ اور ہم اس کارروائی کو بعض لوگوں کے لئے نشان رحمت بناویں گے کہ اس سے ان کا ایمان قوی ہوگا اور یہ امر ابتدا سے مقدر تھا دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۶۔ یہ پیشگوئی براہین احمدیہ میں اس مقدمہ سے اٹھارہ برس پہلے شائع ہوئی تھی اور پھر مقدمہ سے تین ماہ پہلے مندرجہ ذیل الہام اس ابتلاء کے بارے میں ہوئے۔ قد ابتلي المومنون۔ ما هذا الا تهديد الحكام۔ ان الذي فرض عليك القرآن لر آدك الى معاد۔ اني مع الافواج آتيك بغتة۔ ياتيك نصرتي اني انا الرحمن ذو المجد و العلی مخالفوں میں پھوٹ ۔۔۔۔ اور ایک شخص متنافس کی ذلت اور اہانت اور ملامت خلق اور اخیر حکم ) ابراء بے قصور ٹھہرانا ۔ بلجت ایاتی یعنی تجھ پر اور تیرے ساتھ کے مومنوں پر مواخذہ حکام کا ابتلا آئے گا وہ ابتلا صرف تہدید ہو گا ۔ اس سے زیادہ نہیں ۔ وہ خدا جس ۔ خدمت قرآن تجھے سپرد کی ہے پھر تجھے قادیاں میں واپس لائے گا۔ میں اپنے فرشتوں کے ساتھ نا گہانی طور پر تیری مدد کروں گا ۔ میری مدد تجھے پہنچے گی ۔ میں ذوالجلال بلند شان والا رحمن ہوں ۔ میں مخالفوں میں پھوٹ ڈالوں گا (اس میں یہ اشارہ ہے کہ آخر عبد الحمید اور پادری گرے اور نور دین عیسائی مخالفانہ بیان دیں گے ) اور یہ فقرہ کہ متنافس کی ذلت اور اہانت اور ملامت خلق یہ محمد حسین کی طرف اشارہ ہے کہ کرسی کے معاملہ میں اور پھر پادریوں کے خلاف واقعہ شہادت پر طرح طرح کی ذلت اور ملامت خلق اس کو پیش آئی اور انجم کار یہ ہوگا کہ تمہیں بی اور بے قصور ٹھہرایا جائے گا۔ اور میرا نشان ظاہر ہوگا یہ خداتعالی کی طرف سے پیشگوئی ہے جس سے قبل از وقت قریبا دو سومعز ز دوستوں کو اطلاع دی گئ تھی اور جیسا کہ براہین احمدیہ صفحه ۵۱ میں بری کرنے کا وعدہ اس مقدمہ سے اٹھارہ برس پہلے دیا گیا تھا وہی وعدہ دوبارہ اس الہام میں لفظ ابراء کے ساتھ دیا گیا۔ جس کی آنکھیں دیکھنے کی ہوں دیکھے کہ یہ کیسا نشان ہے اور تحقیق کرے کہ کیا یہ سچ ہے کہ نہیں کہ کئی مہینے پہلے ایک جماعت کثیر کو اس کی خبر دی گئی اور مندرجہ بالا الہامات سنائے گئے تھے اور اٹھارہ برس پہلے براہین احمدیہ میں اس کا ذکر ہو چکا تھا کہ یہ قبل از وقت خبر اس جماعت کے لئے بطور نشان ٹھہرے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ احمدیہ اسکا چکاتھا قبل از وقت کے لئے اور ہماری جماعت نے جو قبل از وقت یہ سب الہام سے تو ان کی قوت اور زیادت ایمان کا موجب ہوا ۔ کیا کوئی نیک دل قبول کر سکتا ہے کہ ایک جماعت بڑے بڑے معززوں کی جن میں تعلیم یافتہ ایم ۔ اے اور بی اے اور ایل ایل بی اور تحصیلدار اور اکسٹرا اسسٹنٹ اور رئیس اور تاجر اور علماء و وکیل داخل ہیں وہ میرے لئے جھوٹ بولیں ۔ سو چونکہ خدا تعالیٰ نے اس مقدمہ میں احزاب کو شکست دی اور ان میں پھوٹ ڈالی اور میری اہانت چاہنے والے بٹالوی کو رسوا کیا اور قبل از وقت سب حال بتلا دیا۔ اس لئے اس نشان عظیم کے لحاظ سے اس کتاب مبارک کا نام یہ رکھا گیا كِتَابُ البَريَّة مع آيات رَبِّ البَريَّة مطبع ضیاء الاسلام قادیاں میں چھپی ۔ تعداد جلد ۷۰۰ ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ سے قریباً دو مہینے پہلے مجھے ایک خواب میں دکھائی دیا کہ ایک بجلی میرے مکان کی طرف آئی ہے مگر قبل اس کے کہ گرے واپس چلی گئی اور پھر الہام ہوا کہ کچھ نہیں صرف ایک تہدید حکام ہے اور پھر الہام ہوا کہ صادق آن باشد که ایام بلا مے گذارد با محبت با وفا۔ اس سے میں نے سمجھا کہ کسی قدر حکام کی طرف سے بلا آئے گی اور اس موزوں الہام کے تصور سے معا میرے دل اور روح سے یہ شعر نکلا کہ گویا دوسرا بیت اُس کا ہے یہ گر قضا را عاشقی گردد اسیر بوسد آن زنجیر را کز آشنا منه اصل لفظ الہام کے بٹالوی کی نسبت بہت سخت تھے ہم نے نرم الفاظ میں ان کا ترجمہ کر دیا ہے پس کوئی شخص ہماری جماعت میں سے یہ خیال نہ کرے کہ وہ اصل الہامی الفاظ کیوں نہیں لکھے گئے ۔ منہ + انڈر لائن الفاظ روحانی خزائن کے ایڈیشن کے مطابق ہیں ( ناشر )